نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴
ایذارسانی ہو تو اس پر صبر کرتے ہوئے پرامن دعوتی عمل کو جاری رکھو تو لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔ حتیٰ کہ جو لوگ داڑھی اور مونچھ جیسی چیز کی موافقت میں پُر زور بحثیں کرتے ہیں وہ دعوت اور صبر کے احیاء کی تحریک کے مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ روش بلاشبہ ایک خلاف سنت روش ہے۔ آج سب سے زیادہ ضروری یہ بات ہے کہ اس منفی روش کی اصلاح کی جائے۔
سوال
مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کو اسی طرح سچا مانتے ہیں، جس طرح مسلمان اسلام کو۔ میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ پھر اسلام ہی واحد سچا مذہب کیوں ہے۔ اگر میں کسی اور مذہب کے ماننے والے کے گھر میں پیدا ہوتا تو اس مذہب کو اسی طرح سچا مانتا، جس طرح اب اسلام کو مانتا ہوں۔ اس بات نے میرے ذہن کو منتشر کر دیا۔ (اویس صدیقی، علی گڑھ)
جواب
اسلامی تعلیم کے مطابق، ہر پیغمبر کو خدا نے ایک ہی دین کے ساتھ بھیجا۔ خدا کی طرف سے آئے ہوئے ادیان میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دنیا میں دین کے نام پر بہت سے مذاہب موجود ہیں تو کس مذہب کو لیا جائے اور کس مذہب کو نہ لیا جائے۔ اس ترک و اختیار کا معیار (criterion) صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف ادیان میں سے کون سا دین محفوظ دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی وہ کون سا دین ہے جو آج بھی اُسی ابتدائی حالت میں موجود ہے جیسا کہ پیغمبر نے اسے دیا تھا۔
اس موضوع پر میں نے اپنی کتابوں میں کافی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اُس کا مطالعہ کر کے آپ جان سکتے ہیں کہ دوسرے تمام مذاہب میں اضافے اور تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ اُن کا ابتدائی متن بھی محفوظ نہیں۔ اس کے برعکس اسلام مکمل طور پر اپنی ابتدائی حالت میں موجود ہے۔ اسلام کی مقدس کتاب میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس لیے اب اسلام ہی واحد قابل اعتبار مذہب ہے۔ اسلام کی اسی امتیازی صفت نے اُس کو خدائی سچائی کا واحد مستند ماخذ بنا دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues