Al-Risala · February 2004 · page 45

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴۵

سوال

ہم کو کوئی ایسا ذریعہ بتائیے کہ جس سے ہم محبت خداوندی میں اپنے آپ کو غرق کر دیں۔ ہمارا ہر کام ہر لفظ جو کہ زبان سے نکلے اس کا مقصد صرف اور صرف رضائے الہی ہو (ایک قاری ، الرساله) جواب خدا کے ساتھ گہری محبت ہونا ایمان کی علامت ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : والذین آمنوا اشد حبا للہ ۔ خدا کے ساتھ گہری محبت ہونا ایک اعلیٰ ترین متاع ہے۔ ہر متاع کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اسی طرح محبت الہی کی بھی ایک قیمت ہے۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی ہر دوسری چیز کو اپنی زندگی میں ثانوی بنا دے ۔ مال، اولاد، عزت، شہرت، مقبولیت، بڑائی، سرخ روئی، وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کو لوگ اپنا محبوب بنائے رہتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ خدا ان کے جذبات محبت کا مرکز بن جائے۔ یہ ناممکن ہے۔ خدا کی محبت کسی کو اسی وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ بقیہ کی محبت سے اپنے سینہ کو خالی کر لے۔ جو آدمی ایسا نہ کر سکے اُس کو محبت خدا کی بات بھی نہیں کرنا چاہئے۔

سوال

مسلم برادری کی تاریخی حیثیت کیا ہے۔ قوم جولاہا جو مومن برادری اور انصاری برادری سے موسوم ہے اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے۔ اس لئے کہ اس ذات سے دیگر مسلم برادریاں ایسے ہی نفرت رکھتی ہیں جیسے غیر مسلم مسلم سے اسلام کی بنیاد پر۔ جب کہ ان کی شرافت، صبر و تحمل، سادگی اور انسانی ہمدردی، شر و فساد سے دوری، یہ سب باتیں اس قوم میں بہت پاتا ہوں ۔ اس کے باوجود لوگ انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایسا کیوں ہے۔ (محمد افروز عالم، نالنّدہ) جواب اسلام میں برادری یا ذات پات کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اب بھی یہ نظام صرف برصغیر ہند میں پایا جاتا ہے۔ دوسرے مسلم ممالک میں اس قسم کا نظام موجود نہیں۔ یہ دراصل اسلام کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page