نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴۶
ہندوائزیشن ہے جو پچھلی صدیوں میں پیش آیا۔ اصل یہ ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت علماء کے ذریعہ نہیں ہوئی بلکہ صوفیا کے ذریعہ ہوئی۔ صوفیا کو علم اور تعلیم سے زیادہ لگاؤ نہ تھا۔ اُن کے ذریعہ ہندوؤں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ صوفیا نے ان لوگوں کو کلمہ اور نماز اور ذکر جیسی چیزیں تو بتائیں مگر اُن کی تعلیم دین کا کوئی انتظام نہیں کیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام سے پہلے وہ جن ہندو رسموں اور رواجوں سے مانوس تھے، اُنہی رسموں اور رواجوں کو انہوں نے اسلام میں بھی باقی رکھا۔ صوفیاء نے اگر ایسے لوگوں کی باقاعدہ تعلیم کا انتظام کیا ہوتا تو یقینی طور پر اس قسم کے رواج ختم ہو جاتے۔ مگر صوفیا اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر ایسا نہ کر سکے۔ اسی غلطی کا وہ نتیجہ ہے جس کو ہم آج مسلمانوں کے درمیان ذات پات کی صورت میں پا رہے ہیں۔
سوال
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کا فرمان ہے کہ مجھ سے مانگو میں دوں گا۔ اللہ اپنے بندے سے اُس کی ماں سے بھی زیادہ محبت کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ دعا مصیبت و پریشانی کو روکنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان جو اللہ سے برابر دعا کرتے ہیں اس کے باوجود ہماری دعائیں مقبول کیوں نہیں ہوتیں ۔ ہم کیوں اتنی زیادہ مصیبت اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس منکرین جو اللہ کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کی بنا پر وہ دعا کرنے کا جواز نہیں رکھتے پھر بھی وہ ہم سے بہتر حالت میں ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ (عمر احمد علی، پربھنی)
جواب
دعا کی قبولیت کے لیے یہ کافی نہیں کہ آدمی مسلم خاندان میں پیدا ہوا ہو۔ قبولیت کی شرط قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: الیہ يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه (فاطر ۱۰) اس آیت کے مطابق، وہی دعا خدا تک پہنچتی ہے جس کے ساتھ عمل صالح شامل ہو۔ ایسی حالت
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues