Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

تعلیم یافتہ مسلمان نے بتائی۔ وہ دہلی سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل وہ نیوجرسی (امریکಾ) میں کمپیوٹر انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں چھ ملین سے زیادہ مسلمان ہیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں ہندو بھی وہاں رہتے ہیں۔ مگر یہاں کے ہندو ہر اعتبار سے مسلمانوں سے آگے ہیں۔ وہ نہ صرف زیادہ دولت مند ہیں بلکہ ان کو یہاں زیادہ با عزت درجہ ملا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب کوئی تعصب یا یہودی پروپیگنڈہ نہیں ہے بلکہ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ہندو اپنے تمام کام پروفیشنل (professional) انداز میں کرتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ابھی تک ان کے یہاں پروفیشنلزم کا تصور بھی نہ آسکا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں پروفیشنلزم بہت زیادہ ہے۔ وہ یہاں کا کلچر ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوا کہ ہندو لوگ امریکیوں کو اپنے ورک کلچر کے مطابق نظر آنے لگے۔ جب کہ مسلمانوں کے بارے میں ان کا عام خیال یہ ہوگیا کہ وہ کسی کام کو پروفیشنل انداز میں کرنا نہیں جانتے۔ ڈکشنری کے مطابق پروفیشنلزم یہ ہے:

Professionalism: doing a job in an organized way, with great skill and competence, meeting with the required standard. ۱۲ دسمبر ۲۰۰۳ کی شام کو اشبیلیہ ائرپورٹ سے شہر کی طرف روانگی ہوئی۔ سڑک کافی چوڑی اور ہموار تھی۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے کھلے ہوئے مکان اور دکانیں نظر آئیں۔ پورا راستہ شاداب اور پر رونق تھا۔ یہ وہی شہر ہے جو مسلم دور میں اشبیلیہ کے نام سے مشہور تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر قدیم اشبیلیہ اور جدید اشبیلیہ کو سامنے رکھ کر تقابل کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پہلے یہ ایک ٹاؤن تھا اور اب وہ ایک ماڈرن شہر ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اسپین کا حوالہ آتا ہے تو وہ صرف ”آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی‘ جیسی زبان بولنا جانتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ جب کہ اسپین مسلم عہد کے مقابلہ میں آج زیادہ ترقی یافتہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page