Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

ملک بن چکا تو اس قسم کی منفی باتیں کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ موجودہ مسلمان اپنے مزاجی بگاڑ کی بنا پر خود اپنی عظمت پر فخر کرنا تو جانتے ہیں مگر وسیع تر معنی میں انسانی ترقی سے وہ اپنے آپ کو وابستہ نہ کر سکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ایک مسلمان مغل دور اور عثمانی دور اور اندلسی دور سے سوگنا زیادہ بہتر حالت میں رہتا ہے۔ مگر اپنے اس بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ شکایت اور مایوسی کے سوا کوئی اور زبان بولنا نہیںجانتا۔ ورنہ اس کی زبان مثبت باتوں سے سرشار رہتی۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ خدا کے شکر میں جینے والے بن جائیں۔

ہمارے ہوٹل کے سامنے دور تک سنترے کے درختوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ شہر کے دوسرے حصوں میں بھی کثرت سے سنترے کے ہرے بھرے درخت نظر آئے۔ یہ درخت لال سنترے سے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے اپنے مقامی ساتھی سے پوچھا کہ کیا ان پیڑوں کے سنترے لوگ توڑتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ایسے ہی کثرت سے اُگتے ہیں (They grow wild)۔ ان کے پھل یہاں نمائشی طورپر باقی رکھے جاتے ہیں۔ یہاں کوئی انہیں توڑتا نہیں، نہ مالک اور نہ کوئی دوسرا شخص۔ میں نے سوچا کہ اگر اس طرح پھلوں سے بھرے ہوئے درخت انڈیا میں کھلے راستوں پر ہوں تو شاید وہاں ایک پھل بھی درخت پر نہ بچے ۔

اشبیلیہ میں آنے جانے کے دوران بعض چیزیں ایسی دیکھیں جو غالباً قدیم عرب کے بقایا کے طور پر یہاں ابھی موجود ہیں۔ مثلاً دکان کے باہر بازار کا سائن بورڈ۔ بہت سے الفاظ سے پہلے ال کا استعمال مثلاً الکیز ر(Al Kazares) وغیرہ۔ یہ غالباً قدیم عرب دور کے اثرات ہیں جو اب بھی تک باقی ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اسپین میں مسلمانوں کی حکومت تقریباً ۸ سو سال تک قائم رہی۔ اشبیلیہ بھی اس کا ایک حصہ تھا۔ مسلمانوں نے یہاں کی چیزوں پر زبان سے لے کر طرز تعمیر تک زبردست اثرات ڈالے۔ اس کے اثرات اب بھی یہاں دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے اشبیلیہ میں جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اس کا طرز تعمیر بھی قدیم عرب طرز سے ملتا جلتا تھا۔

اشبیلیہ (Seville) اسپین کا مشہور شہر ہے۔ قدیم زمانہ میں وہ مسلم اسپین کا کیپٹل تھا۔ اشبیلیہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page