Great, I want to go to India.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
آئے تو وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے تھے۔ آج میں اسی علاقہ کے اوپر ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کر رہا ہوں۔ میرا ذہن سوچنے لگا کہ قدیم اور جدید کے اس فرق میں کیا سبق ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مسلمان گھوڑے کی سواری کے دور میں دنیا میں غالب حیثیت رکھتے تھے اور ہوائی جہاز کی سواری کے دور میں وہ مغلوب ہو کر رہ گئے۔
پھر میں نے سوچا کہ یہ طرز فکر درست نہیں۔ تاریخ کا سفر خود اپنے قوانین کے تحت ہوتا ہے۔ اس کو مسلم اور غیر مسلم کے خانوں میں بانٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کو انسانیت کی تاریخ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ مسلم اور غیر مسلم کے خانوں میں بانٹ کر تاریخ کو دیکھا جائے تو اس سے متعصبانہ ذہن بنتا ہے۔ لیکن جب تاریخ کو انسانیت عامہ کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اس سے ایجابی ذہن پیدا ہو گا۔ اور یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ تاریخ کی ترقیوں کو انسانی قافلہ کے سفر کے طور پر دیکھنا ہی مطالعہ تاریخ کا صحیح طریقہ ہے۔
اشبیلیہ کے ائر پورٹ پر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے جب ہم آخری چیکنگ کا کاؤنٹر پر پہنچے تو یہاں کچھ آدمی کھڑے تھے جو ہر مسافر کے بیگ کو کھول کر دیکھ رہے تھے۔ میرے ساتھی نے میرا بیگ ٹیبل پر رکھا تو ائر پورٹ کے آدمی نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا سے۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا کہ بہت خوب۔ میں بھی انڈیا جانا چاہتا ہوں۔
Great, I want to go to India.
یہ کہہ کر اس نے میرا بیگ مزید تفتیش کے بغیر میرے حوالہ کر دیا۔ انڈیا کی تصویر پہلے دنیا کی نظر میں یہ تھی کہ وہ ہاتھیوں اور سانپوں کا ملک ہے۔ یہاں جادو گر اور سپیرے رہتے ہیں۔ مگر پچھلے کچھ سالوں کے درمیان انڈیا کی امیج مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ ہر ملک، بشمول مسلم ملک میں انڈیا کے لوگوں کی قدردانی بہت بڑھ گئی ہے۔ اس میں خاص طور پر دو باتوں کا دخل ہے۔ ایک یہ کہ امریکا اور برطانیہ کے بعد انڈیا انگریزی دانی میں نمبر تین ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں جدید ترین شعبہ (انفارمیشن ٹکنالوجی) میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ دوسری بات وہ ہے جو سفر سے صرف ایک دن پہلے مجھے امریکا میں مقیم ایک
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues