Al-Risala · March 2005 · page 4

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴

ورلڈ کلاس روڈ بنائیں گے، ورلڈ کلاس ریلوے بنائیں گے، ورلڈ کلاس ایئرپورٹ بنائیں گے، وغیرہ۔ مگر جلد ہی آزادی کے ۶۰ سال پورے ہو جائیں گے اور اب تک ملک کی کوئی بھی چیز ورلڈ کلاس نہ ہوسکی۔ بلکہ عملاً اس کا الٹا ہورہا ہے۔ مثلاً ۱۹۴۷ سے پہلے برٹش دور میں کرپشن تقریباً نہیں کے برابر تھا۔ مگر اب کرپشن کا اتنا دور دورہ ہے کہ شاید کوئی کام بھی ملک میں ایسا نہیں جس میں کرپشن شامل نہ ہو گیا ہو، خواہ وہ کام چھوٹا ہو یا بڑا۔

راستہ میں چار بجے متھرا کا ریلوے اسٹیشن آیا۔ نئی دہلی کے مقابلہ میں متھرا کا ریلوے اسٹیشن زیادہ صاف ستھرا دکھائی دیا۔ شاید اس کا سبب مذہبی ہو۔ متھرا مذہبی اعتبار سے ایک مقدس مقام مانا جاتا ہے۔ شاید اس لیے ریلوے کی طرف سے متھرا کے ریلوے اسٹیشن کی صفائی کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہو۔ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس (۲ ستمبر ۲۰۰۳) کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں مسٹر تن و جے کا ایک مضمون چھپا ہوا تھا جو نئی کانگریسی وزارت کے بارے میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نئی وزارت کے سامنے کیا کیا مسائل ہیں۔ اس سلسلہ میں مضمون میں یہ الفاظ درج تھے : The need of the hour is for all those who have the nation's interest at heart to support Manmohan Singh with problems like Manipur, Islamic terrorism, the growing gap between the rich and the poor. There is no other alternative to a speedy infrastructure development and long over-due corrections in the system. عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے، خواہ وہ قومی سطح پر ہو یا بین اقوامی سطح پر، اس کی فہرست میں دوسری چیزوں کے ساتھ اسلامک ٹررزم کا لفظ بھی ضرور آتا ہے۔ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ اس پر غصہ ہوتا ہے اور اس کو میڈیا کا پروپیگنڈا بتاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب مسلمان جگہ جگہ تشدد کلچر چلا رہے ہوں اور اس کام کو وہ اسلامی جہاد کا نام دے رہے ہوں تو میڈیا یا اس کو کس نام سے رپورٹ کرے گا۔ کیا وہ گن اور بم کے واقعہ کو گل پاشی کا نام دے گا، وہ تشدد کے واقعہ کو امن کے واقعہ کے طور پر رپورٹ کرے گا۔

مشہور انگریزی ماہنامہ فلم فئیر (Filmfare) کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۳ ایک مسافر کے پاس تھا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page