مہاراشٹر کا سفر
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۵
میں زیادہ تر تماشے کی باتیں تھیں ۔ آج کل یہ حال ہے کہ عمدہ کاغذ اور کلر پرنٹنگ ہر میگزین کو ظاہری طور پر اتنا پرکشش بنا دیتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بہت خاص چیز ہے۔ حالاں کہ معنوی قدر و قیمت اس میں بہت کم ہوتی ہے۔
اس میگزین میں مشہور فلم اسٹار شاہ رخ خان کا ایک انٹرویو تھا جس کا عنوان یہ تھا: I don't live in lala land. ایک سوال یہ تھا کہ کیا آپ اپنے فلمی پروفیشن کو ذمہ داری کے طور پر لیتے ہیں۔ اس کے جواب میں شاہ رخ خان نے کہا کہ میں کسی خیالی دنیا میں نہیں رہتا۔ میں ایک عملی دنیا میں رہتا ہوں جہاں میں سال میں ۶۰۰ دن کام کرتا ہوں۔ رات دن میں ۱۸ گھنٹے کام کرتا ہوں۔ خون پسینہ ایک کر کے فلم بناتا ہوں ۔ فلم کا مقصد بزنس ہے:
I don't live in a utopion world. I live in a practical world where I work 600 days a year; 18 hours a day, put my blood and sweat into making a film. The business of film is business. (p. 30)
حقیقت یہ ہے کہ ہر کام میں کامیابی کا راز محنت ہے ۔ خواہ وہ فلمی کام ہو یا کوئی اور کام۔ یہ دنیا محنت کا کارخانہ ہے ۔ محنت سے مراد صرف جسمانی محنت نہیں۔ سوچنا، منصوبہ بنانا، حالات کی رعایت کرنا، حقیقی اور غیر حقیقی میں فرق کرنا، یہ سب محنت میں شامل ہیں۔ راستہ میں ایک ریلوے افسر ہمارے ہم سفر تھے۔ وہ جھانسی میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنا نام سی پی بھاٹیہ بتایا۔ ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے: 2470183 (0517) وہ نہایت ذہین مگر نہایت متواضع آدمی تھے۔ راستہ میں انہوں نے ہماری کسی فرمائش کے بغیر کئی معاملہ میں ہماری مدد کی ۔ میں نے کہا کہ اس سفر میں میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ اے سی (AC) ہے۔ میں اے سی والی زندگی کا عادی نہیں ہوں۔ دہلی میں میرے کمرے میں نہ اے سی ہے اور نہ کولر ۔ میرے گھر سے ملا ہوا پارک ہے۔ میں اس کی کھڑکی کھول دیتا ہوں اور اس کی طرف سے تازہ ہوا آنے لگتی ہے ۔ یہ سن کر انہوں نے کہا: بھگوان جی کا اے سی چلتا ہے میرے ساتھی نے ان کو میرا کارڈ دیا جس پر سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی لکھا ہوا تھا۔ اس کو دیکھ کر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues