Al-Risala · March 2005 · page 6

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۶

مسٹر بھاٹیا کی بیوی نے کہا کہ اسپرچولٹی کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیے۔ میں نے کہا کہ ہم ایک ہفتہ دارا اسپرچول کلاس دہلی میں چلاتے ہیں۔ ان کے مزید سوال پر میں نے بتایا کہ اسپرچولٹی کا مقصد من کی شانتی ہے۔ خاتون نے پوچھا کہ آپ کا متھڈ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ دوسرے لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کچھ جسمانی ورزشوں کے ذریعہ سوچ کے عمل کو معطل کر دیں اور اس طرح من کی شانتی حاصل کریں۔ میرا کہنا ہے کہ اس طرح کی شانتی تو جنگل کے جانوروں کو بھی ملی ہوئی ہے۔ اس قسم کی شانتی حیوانی سطح کی شانتی ہے۔ صحیح شانتی وہ ہے جو انسانی ذہن کی سطح پر ملے۔

میں نے کہا کہ انسان کی تمام سرگرمیاں، خواہ ان کا تعلق سوچ سے ہو یا احساس سے، سب کی سب دماغ سے جڑی ہوئی ہیں۔ جس طرح میموری (memory) دماغ کا ایک فنکشن ہے، روحانیت بھی اسی طرح دماغ کا ایک فنکشن ہے۔ عام طور پر جس چیز کو روحانیت سمجھا جاتا ہے وہ دراصل وجد (ecstasy) ہے ۔ سچی روحانیت وہ ہے جو دماغ کی تشکیل نو (re-engineering of mind) کے ذریعہ حاصل ہو۔

دہلی سے ناندیڑ کا یہ سفر تقریباً ۲۶ گھنٹے کا سفر تھا۔ یہ ۲۶ گھنٹے میرے لیے ایک مصیبت کے ہم معنی تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں ایک ائر کنڈیشنڈ قید خانہ میں بند ہوں اور ایک مقرر مدت سے پہلے اس سے نکلنا میرے لیے ممکن نہیں۔ شاید اسی قسم کے تجربات کی بنا پر حدیث میں آیا ہے ؀ الدنیا سجن المومن - دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔ میرے ائر کنڈیشنڈ ڈبہ کے باہر فطرت کی حسین دنیا تھی ۔ ہرے بھرے مناظر، سورج کی روشنی ، درختوں سے نکلنے والی تازہ ہوائیں ، کھلی فضا ، چڑیوں کی آوازیں وغیرہ۔ مگر میں مجبور تھا کہ فطرت کی اس حسین دنیا کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس سے منقطع رہوں اور ائر کنڈیشنڈ ڈبہ کے اندر مصنوعی ماحول میں احساس مجبوری کے تحت پڑارہوں۔ ٹرین لوہے کی پٹری پر مسلسل دوڑتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ ایک کے بعد دوسرا اسٹیشن آ رہا تھا۔ اس دوران میرا ذہن تاریخ کے سفر میں گم ہو گیا ۔ مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آیا جب کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہاں سواری کے نام پر صرف بیل گاڑی پائی جاتی تھی۔ مجھے وہ منظر یاد آیا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page