Al-Risala · March 2005 · page 7

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۷

جب کہ گاڑی میں لگی ہوئی لوہے کی ڈھری کے دونوں طرف سُتلی لپٹی جاتی تھی اور اس کے اوپر تیل لگا کر اس میں لکڑی کے بھاری پہیے ڈالے جاتے تھے۔ پھر دو یا تین بیل نہایت مشقت کے ساتھ اس گاڑی کو لے کر چلتے تھے۔ اہل مغرب نے پہلی بار اس میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے غالباً سب سے پہلے یہ کیا کہ بال بیرنگ (ball bearing) بنائی اور اس کو پہیہ میں جوڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ربر کے ٹائر بنائے۔ ان چیزوں نے گاڑی کے چلنے کو بہت زیادہ آسان کر دیا۔ اب اس نئی گاڑی کو لے کر جانور سڑکوں پر تیزی سے دوڑتے ہیں۔ پھر اہل مغرب نے مکینیکل پاور (mechanical power) کو دریافت کیا۔ اس دریافت نے سواری کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ اب ریل، موٹر کار، ہوائی جہاز، اسٹیم شپ وغیرہ، جیسی تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں۔ اہل مغرب نے دنیا کو بہت سی اس طرح کی قیمتی چیزیں دی ہیں۔ مسلمانوں نے دنیا کو توہمات (superstitions) کے دور سے نکالا تھا، اہل مغرب نے انسانیت کو سائنٹفک دور میں پہنچایا۔ زمانہ کی یہ تبدیلی عین اسلام کے حق میں تھی۔ مگر بدقسمتی سے یہ ہوا کہ ٹھیک اسی وقت بے خبر مسلم رہنماؤں کی ایک فوج ساری مسلم دنیا میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے بے تکان مغرب اور مغربی تہذیب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ان کا یہ منفی ردعمل اس عربی مقولہ کا مصداق تھا: الناس اعداء ما جهلوا (لوگ اس چیز کے دشمن ہو جاتے ہیں جس کو وہ نہ جانتے ہوں) اہل مغرب کے ذریعہ جو چیزیں ظہور میں آئیں ان کی حیثیت ایجاد (invention) کی نہ تھیں بلکہ ان کی حیثیت دریافت (discovery) کی تھیں۔ یہ دراصل فطرت کے چھپے ہوئے راز تھے جن کو اہل مغرب نے لمبی جستجو کے بعد معلوم کیا اور ان کو عام انسان کے لیے قابل استعمال بنایا۔ ان دریافتوں کے بہت سے مفید پہلو تھے مگر غالباً اس کا سب سے زیادہ مفید پہلو یہ تھا کہ ان دریافتوں کے ذریعہ فطرت میں چھپی ہوئی خدائی نشانیاں سامنے آگئیں۔ اس کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا کہ خدا کی معرفت کو زیادہ گہری سطح پر حاصل کیا جاسکے۔ ان دریافتوں نے معرفت کے فریم ورک کو بہت بڑھا دیا۔ پہلے خدا کی معرفت صرف روایتی فریم ورک کے ذریعہ ممکن ہوتی تھی۔ اب یہ معرفت سائنٹفک فریم ورک کے ذریعہ ممکن ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page