مہاراشٹر کا سفر
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۸
اس نے فریم ورک نے معرفت کے اعلیٰ دروازے کھول دیئے۔ خدا کی معرفت، جنت کی معرفت، پیغمبر کی معرفت، قرآن کی معرفت، ہر چیز کی معرفت کے لیے ایک نیاز یادہ گہرا فریم ورک دستیاب ہو گیا۔ مثال کے طور پر قرآن کا پہلا کلمہ یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ یعنی شکر ہے اس خدا کا جو سارے عالم کا رب ہے۔ شکر کا یہ احساس بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ شکر اس عبادتی کیفیت کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
مثلاً راستہ میں مجھے پیاس لگی۔ مجھے پلاسٹک کی شفاف بوتل میں پیک کیا ہوا پانی دیا گیا۔ اس صاف و شفاف پانی کو دیکھ کر قدیم زمانہ کا انسان بھی کہتا تھا الحمد للہ۔ مگر آج کے انسان کے سامنے جب پانی آتا ہے تو اس کے ذہن میں علم الماء کی ایک پوری کائنات گھوم جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انتہائی وسیع کائنات میں ہماری زمین ہی وہ چھوٹا سا کرہ ہے جہاں پانی جیسی قیمتی چیز موجود ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ کس طرح کائناتی سطح پر بہت سے واقعات ہوئے جن کے نتیجہ میں دو غیر سیال گیسوں کے ملنے سے سیال پانی بنا۔ پھر عجیب و غریب آفاقی نظام کے تحت اس پانی کے ذخیرے زمین کے اندر اور اس کے باہر محفوظ ہو گئے اور پھر بارش کے نظام کے تحت مسلسل اس ذخیرے کو تازہ رکھنے کا نظام قائم ہوا، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے ایک ہم سفر مسٹر گوپال کرشن دوار کا تھے ۔ وہ الیکٹریکل انجینئر ہیں اور چار سال جرمنی میں رہے ہیں۔ آج کل وہ دہلی میں مقیم ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ میں پہلے پبلک سیکٹر میں کام کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمارے لیڈر روس کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے ملک کی اکانومی کو روس کی مدد سے چلانا چاہا مگر روس خود ٹکنالوجی کے اعتبار سے پچھڑا ہوا ملک تھا۔ ہمارا دیش آگے نہ بڑھ سکا۔ اس روسی جھکاؤ نے ہمارے دیش کو دو تحفے دئے۔ ایک اکنا مک پچھڑاپن اور دوسرے بھرشٹا چار۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر راجیو گاندھی نے اس ٹرینڈ (trend) کو بدلنا شروع کیا۔ اس کے بعد نرسمہا راؤ کے زمانہ میں ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اس کو آگے بڑھایا۔ اس وقت کانگریس کے لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues