خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۹
من موہن سنگھ کے مخالف تھے۔ کیوں کہ لائسنس۔ پرمٹ راج کے سسٹم میں ان کا انٹرسٹ جڑ گیا تھا۔ مگر نرسمہا راؤ نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی زبردست مدد کی۔ اس طرح یہ پالیسی آگے بڑھی۔ پھر بی جے پی کے زمانہ میں کھلے پن کی پالیسی کو اور زیادہ بڑھاوا ملا۔ پہلی بار ہمارا بدیشی کرنسی کا بھنڈار بہت بڑھ گیا۔ اب ڈاکٹر من موہن سنگھ اس کو اور آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ مگر خود کانگریسیوں کی طرف سے ان کو مخالفت کا سامنا ہے۔ اسی کے ساتھ لفٹسٹ پارٹیوں کی بھی مخالفت چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آزادی کے بعد فورا ہی کھلے پن کی پالیسی اپنائی گئی ہوتی تو آج ہمارا دیش چین سے بھی آگے ہوتا اور دنیا کے چند بڑے دیشوں میں اس کا شمار ہوتا۔
کسی قوم کی زندگی میں صحیح آغاز کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ صحیح آغاز کا مطلب گاڑی کو صحیح سمت میں روانہ کرنا ہے۔ جو گاڑی اپنے آغاز میں صحیح سمت میں روانہ ہو اس کا ہر لمحہ آگے کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہے۔ اس کے برعکس اگر نقطہ آغاز صحیح نہ ہو تو ہر اگلا لمحہ منزل سے دوری کے ہم معنی بنتا چلا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو ایک شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:
خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب کبھی کوئی قومی نظام بنتا ہے تو اس سے کچھ لوگوں کے انٹرسٹ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً انڈیا میں بیوروکریسی کا انٹرسٹ اور پاکستان میں فوجی افسروں کا انٹرسٹ۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ قائم شدہ نظام میں ان کو ہر قسم کے فائدے مل رہے ہیں تو وہ اس میں تبدیلی کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ یہ نظام باقی رہے تا کہ ان کے مفادات پر کوئی زد نہ پڑے ۔ اس طرح ایک محدود گروہ کو تو خوب فائدے ملتے ہیں مگر بقیہ لوگ محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں موبائل ٹیلی فون کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ کئی بار مسافروں کے موبائل کی گھنٹی بجی اور لوگ دور کے مقام سے بات کرنے لگے۔ موبائل ٹیلی فون کی دریافت سے پہلے یہ ناقابل تصور تھا کہ کوئی شخص چلتی ہوئی ٹرین میں دور سے بات کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کمیونی کیشن خدا کی ایک عجیب نعمت ہے۔ اس نعمت کو لاکھوں لوگ استعمال کر رہے ہیں مگر میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues