Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

711ء تک رومنوں کے وی زی گوتھ کا کیپٹل رہا۔ اس کے بعد یہاں مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم ہوا۔

اس سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس طرح کے الفاظ ہیں:

Seville was known as Hispalis under the Romans and was a visigothic capital until 711, when it was captured by the Moors. After the Muslims were driven out in 1248, the city rapidly rose to eminence. یعنی اشبیلیہ رومی ماتحتی کے دور میں ہسپالس کہا جاتا تھا اور وہ ۷۱۱ تک وی سی گوتھ کی راجدھانی تھا، جب کہ اس پر مسلمانوں نے قبضہ کیا۔ یہاں تک کہ ۱۲۴۸ میں مسلمان یہاں سے نکال دئے گئے۔ اس کے بعد شہر تیزی سے اہمیت اختیار کرگیا۔ ان الفاظ میں مسلم دور کا ذکر جس طرح تحقیری انداز میں کیا گیا ہے اس سے مسلم عہد کی مثبت تصویر سامنے نہیں آتی۔ تاہم دوسرے مغربی مورخین نے نہایت فیاضی کے ساتھ اسپین کے مسلم عہد کے کارناموں کا اعتراف کیا ہے۔ میں نے حال میں ایک معروف عالم کا ایک مضمون پڑھا۔ اس میں انہوں نے جوش کے ساتھ لکھا تھا کہ ہم کو مسلمانوں کی ماضی کی تاریخ پر فخر ہے۔ اس مضمون میں اس قسم کی باتیں تو پرجوش انداز میں بیان کی گئی تھیں ۔ مگر اس میں انسانیت کی حالیہ ترقی کا کوئی حوالہ نہ تھا۔ اس مضمون کو پڑھنے والا صرف یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ شاندار ماضی کو کھو کر تباہ شدہ حال میں جی رہا ہے۔ مذکورہ عالم کی زبان سے اس قسم کی غیر علمی بات لمبی مدت سے چھاپ کر پھیلائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ مسلمانوں کا ذہن عام طور پر نفرت اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ کوئی مثبت پیغام یا کوئی تعمیری منصوبہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اپنے ماضی کی مفروضہ عظمت میں جینا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ انسان کو بیک وقت دو برائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا خاتمہ، اور مثبت انداز میں سوچنے کے قابل نہ رہنا۔ آج دسمبر ۲۰۰۳ کی ۱۳ تاریخ ہے۔ اس وقت میں اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page