Al-Risala · March 2005 · page 10

خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۰

نے اب تک کسی کو نہیں پایا جو اس انوکھی نعمت پر شکر کے جذبے سے سرشار ہو۔

ٹرین میں ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاءقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی کتاب گیتا نجلی کا ذکر کیا۔ میں نے ٹیگور اور گیتا نجلی کے بارے میں کچھ اظہار خیال کیا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ تم کیا بات کر رہے ہو۔ یہ تو خود رابندر ناتھ ٹیگور ہیں : He himself is like Rabinder Nath Tagore. میں نے پایا کہ ہندو لوگوں میں اعتراف کا مادہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو لوگوں میں خدا اندر (indwelling God) کا تصور ہے۔ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق ، ہر انسان کو خدا کا آنش سمجھتے ہیں۔ گویا وہ پہلے ہی سے ہر انسان کے اعتراف میں جیتے ہیں۔ اس لیے جب بھی کسی انسان سے ان کا سابقہ پڑتا ہے تو اس کا اعتراف کرنے میں ان کے لیے کوئی مانع نہیں ہوتا، وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی دیوتا کے آگے جھکنا۔ حیدر آباد کے اردو روز نامہ منصف (۳ ستمبر ۲۰۰۲) میں لکھنؤ کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی۔ اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا: عصری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے شریعت کی تشریح وقت کا اہم تقاضا ۔ اس رپورٹ کا ابتدائی حصہ یہ تھا: ’’اسلامی شریعت مکمل ہو چکی ہے، اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی گنجائش نہیں، البتہ زمانہ کے اسلوب اور مزاج کے مطابق اس کی تشریح کی گنجائش ہے اور یہ علماء کا فریضہ ہے کہ شریعت کے مسلمہ اصول و ضوابط سے ہر دور کے نئے مسائل کا حل پیش کریں اور امت کے لیے آسانی پیدا کریں۔ ‘‘ المعهد العالی الاسلامی، حیدر آباد کے ریسرچ اسکالر مولانا منور سلطان ندوی کی کتاب ’’ندوة العلماء کا فقہی مزاج اور ابناء ندوۃ کی فقہی خدمات‘‘ کے رسم اجراء کی تقریب کے موقع پر صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ناظم ندوة العلماء لکھنؤ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

مذکورہ تقریر میں ایک طرف یہ کہا گیا کہ اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے۔ اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ دوسری طرف اسی تقریر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ البتہ زمانی تقاضوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page