خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۱
مطابق، اس میں تشریح (واجتہاد) کی گنجائش ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ اگر شریعت مذکورہ معنوں میں مکمل ہے تو پھر اس میں کسی نئی چیز کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر اس میں نئی چیز کی گنجائش باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکمل نہیں۔
یہ بظاہر تضاد ایک غلط تقسیم (wrong dichotomy) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ معاملہ مکمل شریعت اور ناقص شریعت کا نہیں ہے بلکہ وہ بنیادی شریعت اور تفصیلی شریعت کا معاملہ ہے۔ اصولی تعلیمات کے لحاظ سے شریعت بلا شبہ مکمل ہے مگر قوانین کی فہرست کے اعتبار سے شریعت نہ تو "مکمل" ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ لوگوں نے یہ غلط مفروضہ قائم کر لیا ہے کہ شریعت اصول کے علاوہ احکام و قوانین کے اعتبار سے بھی پوری طرح مکمل ہے۔ اس لیے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس میں اجتہاد یا قانونی اضافہ یا تبدیلی کیسے کی جائے۔ حالاں کہ خود یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔
ٹرین ۳ ستمبر کی شام کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو کر ناندیڑ پہنچی۔ مسٹر اے کے پانڈے ریلوے میں انجن کے میکینک ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ٹرین لیٹ ہونے کا سبب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ منماڈ سے ناندیڑ تک ایک ہی پٹری ہے جس پر تمام گاڑیاں چلتی ہیں۔ ہر گاڑی کے آگے اور پیچھے کئی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ اگر کسی ایک گاڑی کے ساتھ کوئی پرابلم ہو اور اس کو کسی اسٹیشن پر رو کنا پڑے تو اس کا اثر تمام گاڑیوں پر پڑتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ تمام پٹریوں کو ڈبل کر دیا جائے۔ انڈیا میں جن لائنوں پر تو ڈبل پٹریاں بنائی گئی ہیں مگر دوسری لائنوں پر ابھی ایسا نہیں ہوا۔ ہماری منزل ناندیڑ تھی مگر ابھی ٹرین پربھنی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تھی کہ الرسالہ کے لوگوں کی آمد شروع ہو گئی۔ پر بھنی سے کئی لوگ اس ٹرین میں مجھ سے ملنے کے لیے سوار ہوئے۔ ہمارے ڈبہ کے ٹکٹ کلکٹر ایک مسلمان تھے جن کا نام حمید الدین تھا۔ میں ان کو نہیں جان سکا تھا مگر انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ جو لوگ پر بھنی میں سوار ہونے ان کو میرے پاس پہنچانے میں انہوں نے مدد کی ۔ اس طرح ٹرین کے اندر ہی الرسالہ کے قاریوں کی مجلس شروع ہوگئی۔
یہ سب الرسالہ کے قاری تھے۔ ان سے ٹرین کے اندر تقریباً ایک گھنٹہ تک گفتگو کا سلسلہ جاری
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues