خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۲
رہا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ خدا کے نزدیک سب سے بری چیز منافقت ہے۔ قرآن میں ہے: ان المنافقین فی الدرك الاسفل من النار۔ منافقت در حقیقت دو عملی (duplicity) کا نام ہے۔ آدمی کو ہمیشہ اپنے کانشنس (ضمیر) کے مطابق جینا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں ضمیر کی حفاظت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ۱۹۶۲ میں میں نے جماعت اسلامی صرف اسی لیے چھوڑی تھی۔ مجھ کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تعبیر دین سے اختلاف ہوا۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داروں نے مجھ سے کہا کہ آپ کے جو خیالات ہیں انہی خیالات کے ساتھ آپ جماعت اسلامی میں رہیے۔ آپ جماعت اسلامی کو نہ چھوڑیے۔ تاہم میں نے اپنے ضمیر کی آواز کو اہمیت دی اور جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی۔
میں نے کہا کہ اس طرح کے مواقع میری زندگی میں بار بار پیش آئے ہیں۔ پچھلے سالوں میں مجھے نئی دہلی کی حکومت کی طرف سے گورنر کے عہدے کی پیش کش کی گئی مگر میں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اسی طرح مجھے راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کر دیا گیا اور اخباروں میں باقاعدہ اس کا اعلان بھی آگیا۔ مگر میں نے اس کو بھی قبول نہیں کیا۔ حالاں کہ لوگ کروڑوں روپیہ کا عطیہ دے کر راجیہ سبھا کے ممبر بنتے ہیں جب کہ میں نے اشارۃً بھی اس کی خواہش نہیں کی۔ ایسا میں نے صرف اس لیے کیا کہ کسی بڑے سرکاری عہدہ کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہمیشہ ضمیر کی آواز کو دبانا پڑتا ہے۔ مسٹر عبدالرحمن چاؤش نے کہا کہ میں نے یہ بات اخبار میں پڑھی ہے۔ انہوں نے ایک ہندی پرچہ کا حوالہ دیا جس میں یہ بات چھپی ہے کہ میں نے گورنری اور راجیہ سبھا کی ممبری دونوں کو لینے سے انکار کر دیا، جب کہ یہ عہدے مجھے میری درخواست یا خواہش کے بغیر دیے جا رہے تھے۔ مسٹر عبدالرحمن نے بعد کو مجھے دو ہندی پرچوں کی فوٹو کاپی بھیجی جن میں میرے بارہ میں یہ بات چھپی ہوئی تھی۔ وہ پرچے یہ ہیں: لوک مت سماچار، ۸ ستمبر ۲۰۰۲۔ آؤٹ لک، ۱۰ مئی ۲۰۰۲۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغی جماعت کے مخالف ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ میں تبلیغی جماعت کو پسند کرتا ہوں اور اس کی تائید میں بار بار لکھ چکا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues