Al-Risala · March 2005 · page 13

خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۳

ہوں۔ البتہ مجھے ایک چیز سے اتفاق نہیں۔ تبلیغی جماعت والے اپنے کام کو دعوت کہتے ہیں۔ حالاں کہ تبلیغی جماعت کا کام دعوت نہیں ہے بلکہ وہ اصلاح امت کا کام ہے۔ دعوت وہ کام ہے جو عام انسانیت کے لیے کیا جائے۔ تبلیغی جماعت میں اکرام مسلم اور امت پنا کا اصول ہے۔ یہ اصول اصلاح امت کے کام سے مطابقت رکھتا ہے۔ دعوت کا کام اکرام انسان اور انسانیت پنا جیسے آفاقی اصول کا تقاضا کرتا ہے جو کہ تبلیغی جماعت میں موجود نہیں۔

مجلس میں ایک صاحب تھے۔ انہوں نے اپنے کو الرسالہ کا قاری بتایا مگر وہ بات کو کاٹ کر درمیان میں بار بار سوال کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک آپ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں۔ زیادہ سوال کرنا الرسالہ کے مزاج کے خلاف ہے۔ الرسالہ کا مقصد ذہن بنانا ہے۔ جو لوگ الرسالہ کو گہرائی کے ساتھ پڑھیں ان کا ذہن اس طرح تیار ہو جاتا ہے کہ وہ خود ہی سوالات کا جواب پالیتے ہیں۔ وہ سوال کرنے سے زیادہ سوچنے کے عادی بن جاتے ہیں۔ سوال کرنا بات کو ہضم کئے بغیر بولنا ہے۔ اگر آپ بات کو ہضم کرنا سیکھ لیں تو آپ کا ذہن خود ہر سوال کا جواب پالے گا۔ ناندیڑ کے ریلوے اسٹیشن پر گاڑی رکی تو بہت سے لوگ پلیٹ فارم پر ملنے کے لیے موجود تھے۔ یہ تمام لوگ الرسالہ کے قاری تھے۔ ان میں سے کئی لوگ گلدستہ یا پھولوں کا ہار لے کر وہاں پہنچے تھے۔ میں نے سب کو منع کر دیا اور سلام ومصافحہ پر اکتفا کیا۔ ریلوے اسٹیشن سے قافلہ کی صورت میں روانہ ہو کر ہم لوگ مسٹر عبد الرحمن چاؤش کے مکان پر پہنچے۔ ناندیڑ میں میرا قیام انہی کے گھر پر تھا۔ یہاں دوبارہ لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ بات شروع کرنے سے پہلے میں نے ہر ایک سے کہا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیں۔ میں نے کہا کہ خلیفہ دوم عمر فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کان يتعلم من كل احد (وہ ہر ایک سے کچھ سیکھتے تھے)۔ اس سیکھنے کا طریقہ یہی تھا کہ وہ لوگوں سے ان کے اپنے تجربات پوچھتے تھے اور اس کے ذریعہ اپنی معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔ میں نے بھی اپنی زندگی میں اسی اصول کو اختیار کیا ہے۔ جب بھی میری ملاقات کسی شخص سے ہوتی ہے تو سب سے پہلے میں اس سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page