Al-Risala · March 2005 · page 14

خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۴

یہی کہتا ہوں کہ اپنے کچھ تجربات بتائیے۔

حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ لڑنے بھڑنے کا طریقہ کبھی مفید نہیں ہوتا۔ البتہ ایک مثال ہے جب کہ لڑائی سے ایک نتیجہ نکلا اور وہ بنگلہ دیش کا بننا ہے۔ میں نے کہا کہ نتیجہ سے مراد مثبت نتیجہ (positive result) ہے۔ بنگلہ دیش کی لڑائی سے بنگلہ دیش تو بن گیا مگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ مثبت رزلٹ یہ تھا کہ شیخ مجیب الرحمن کے دعوی کے مطابق، بنگلہ دیش سونار بنگلہ (Golden Bangla) بنتا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، نتیجہ برعکس صورت میں سامنے آیا۔ شیخ مجیب الرحمن اس کے بانی تھے۔ ان کا نعرہ تھا: سونار بنگلہ (گولڈن بنگلہ دیش)۔ مگر عملاً جو بنگلہ دیش بنا وہ کرپٹ بنگلہ دیش تھا۔ مختلف مقامی اسباب کی بنا پر بنگلہ دیش کے لوگوں کی معاشیات کا گہرا تعلق کلکتہ اور مغربی بنگال سے تھا۔ مگر بنگلہ دیش بننے کے نتیجہ میں وہاں کے لوگ اس سے کٹ گئے اور غربت ان کا مقدر بن گئی۔ میں نے کہا کہ کسی بھی اقدام کی صحت کو جانچنے کا معیار صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس اقدام سے کوئی مثبت رزلٹ نکلا یا نہیں۔

ناندیڑ کا علاقہ ۱۹۴۷ سے پہلے حیدرآباد اسٹیٹ کا ایک حصہ تھا۔ یہاں آزاد حیدرآباد کی تحریک چلائی گئی ۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ تحریک پوری طرح ناکام رہی۔ یہاں تک کہ اس کے لیڈر مسٹر قاسم رضوی بھاگ کر پاکستان چلے گئے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ناندیڑ کی جو اقتصادی حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج وہ بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ آزاد حیدر آباد جیسی تحریک چلانا صرف ایک دیوانگی کا فعل تھا نہ کہ فرزانگی کا فعل۔

ایک صاحب نے کہا کہ مومن کے صبح وشام کس طرح گزرنے چاہئیں ۔ میں نے کہا کہ حدیث میں اس کا جواب موجود ہے۔ ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان صحابی سے کہا: يا بنى ان تستطيع ان تصبح و تمسی و ليس في قلبك غش لاحد فافعل ۔ (اگر تم ایسا کر سکو کہ تم صبح اور شام اس طرح کرو کہ تمہارے دل میں کسی کے خلاف بغض نہ ہو تو ضرور تم ایسا کرو) میں نے کہا کہ ایک شخص کے دل میں کسی کے خلاف بغض اور نفرت کب پیدا ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page