خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۵
ہے ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کوئی ناراضگی کی بات پیش آجائے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ چاہے تم کو کسی کے خلاف ناراضگی کیوں نہ ہو تم اس کے معاملہ میں اپنے آپ کو منفی نفسیات کا شکار ہونے سے بچاؤ ۔ تم ہر حال میں مثبت نفسیات کے ساتھ جیو ۔
ناندیڑ کی آبادی تقریباً ۵ لاکھ ہے۔ اس میں ۳۵ فیصد مسلمان ہیں۔ کچھ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ مشترک آبادی میں رہتے ہیں اور زیادہ مسلمان الگ پاکٹ کی صورت میں رہتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ جو مسلمان علیحدہ پاکٹ کی صورت میں رہ رہے ہیں وہ زیادہ ترقی نہیں کر سکے۔ لیکن جو لوگ ہندوؤں کے ساتھ مشترک آبادی میں رہتے ہیں انہوں نے مقابلہ زیادہ ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹریکشن اور مل جل کر رہنے میں بہت زیادہ فائدے ہیں۔ تمام فکری اور عملی ترقیاں اسی سے جڑی ہوئی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ فطرت کے اس راز کو موجودہ زمانہ کے کسی بھی مسلم رہنما نے نہیں سمجھا۔ پاکستان، فلسطین، بنگلہ دیش، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان، وغیرہ سب اسی بے دانشی کی مثالیں ہیں۔
مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کہ ۱۹۷۴ سے ۱۹۳ سے پہلے میں ناندیڑ نہیں آیا تھا۔ البتہ ۱۹۴۷ سے پہلے ایک بار ٹرین میں سفر کرتے ہوئے میں اس علاقہ سے گزرا تھا۔ اس وقت ناندیڑ نظام اسٹیٹ کا حصہ تھا۔ اب وہ آزاد ہندوستان کا حصہ ہے۔ اس مشاہدہ میں میں نے جو اندازہ کیا تھا اس کے مطابق آج کا ناندیڑ پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ اس ترقی میں ہند واور مسلمان دونوں کو برابر کا حصہ ملا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں میں عبدالرحمن صاحب کے گھر پر ٹھہرا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ۱۹۴۷ میں آپ کے خاندان کی اقتصادی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ہم اللہ کے فضل سے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی تقریبا تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں یہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر کریں نہ کہ قدیم نظام اسٹیٹ کو یاد کر کے آہ بھرتے رہیں ۔
ناندیڑ میں شنا ہائیر سیکنڈری اسکول کا آغاز ۱۹۹۲ میں ہوا تھا۔ وہ یہاں کا ٹاپ کا اسکول سمجھا جاتا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues