Al-Risala · March 2005 · page 16

خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۶

ہے۔ ۴ ستمبر ۲۰۰۳ کو ۱۱ بجے یہاں ایک جلسہ ہوا۔ اس میں طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ شہر کے لوگوں کی بھی قابلِ لحاظ تعداد شریک ہوئی۔ یہاں مجھے خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ خطاب اور سوال و جواب تقریباً ۲ گھنٹہ تک جاری رہا۔ میں نے تفصیل کے ساتھ تعلیم کی اہمیت بتائی۔ میں نے بتایا کہ تعلیم صرف سروس کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ تعمیر شعور کے لیے ہوتی ہے۔ تعلیم آدمی کے اندر فکر صحیح پیدا کرتی ہے اور فکر صحیح والا آدمی ہی معاملات میں صحیح فیصلہ لے سکتا ہے۔

میں نے حضرت علی کا ایک قول سنایا: قیمۃ المرء ما یحسنہ (یعنی آدمی کی قدر و قیمت اس کے امتیازی عمل میں ہے (The value of a person lies in excellence)

میں نے کہا کہ اس قول کی روشنی میں میں آپ کو زندگی کی کامیابی کا ایک سادہ فارمولا دیتا ہوں ۔ آپ اس کو اختیار کر لیں تو آپ زندگی میں کبھی ناکام نہ رہیں گے۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ: بہتر کرو اور بہتر پاؤ (Do your best and find the best)

تقریر کے بعد کثرت سے سوالات کئے گئے۔ یہ سوالات زیادہ تر طلبہ کی طرف سے کئے گئے تھے۔ عجیب بات ہے کہ تمام سوالات سنجیدہ سوالات تھے۔ میرے جواب کے بعد کسی نے بھی کر اس کو نشچن نہیں کیا۔ جلسہ گاہ میں کافی لوگ موجود تھے مگر پوری کارروائی نہایت پر سکون طور پر ہوئی ۔ مسٹر عبدالرحمن چاؤش نے سوال کیا کہ دعوت الی اللہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ۔ میں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فرض عین اور فرض کفایہ کی اصطلاح قرآن وحدیث میں نہیں ہے۔ یہ اصطلاح بعد کو فقہ میں وضع ہوئی ہے۔ تاہم جہاں تک دعوت الی اللہ کا تعلق ہے، میرے نزدیک وہ اس تقسیم کے دائرہ میں نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہر حال میں فرض ہے۔ وہ کسی بھی حال میں اور کسی بھی شخص سے ساقط نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ مسائل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غیر استمراری مسئلہ اور دوسرا استمراری مسئلہ۔ فرض کفایہ کا اصول غیر استمراری مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے۔ استمراری مسئلہ میں فرض علی الکفایہ کا اصول قابلِ انطباق نہیں۔ اور دعوت الی اللہ کا کام اسی استمراری نوعیت سے تعلق رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک بستی میں کنواں نہیں ہے۔ لوگ پیاسے پڑے ہوئے ہیں اور سخت

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page