خشت اول گر نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۷
ضرورت ہے کہ وہاں کنواں کھودا جائے۔ اب اگر کچھ لوگ کنواں کھود کر پانی کا انتظام کردیں تو انہوں نے گویا سب کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا۔ اب اس کا فریضہ دوسروں کے اوپر نہیں رہے گا۔ اسی طرح اگر بستی میں ایک مسلمان کی موت آجائے اور اس کا مردہ جسم لاوارث پڑا ہوا ہو تو اس کی تجہیز و تکفین اس وقت تک ساری بستی پر فرض رہے گی جب تک کہ وہ عملاً نہ ہو جائے۔ لیکن اگر کچھ لوگ اس کی تجہیز و تکفین کردیں تو گویا انہوں نے دوسروں کی طرف سے ان کا فرض ادا کردیا۔ اب دوسروں کے اوپر سے اس کی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔ مگر دعوت الی اللہ کا کام ایک استمراری نوعیت کا کام ہے۔ دعوت کا تعلق انسانوں سے ہے اور انسان ہر روز مرتے ہیں اور ہر روز نئے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے دعوت کی ضرورت ہر جگہ اور ہر وقت جاری رہے گی۔ اس کا تعلق کسی محدود وقت سے نہیں ہے کہ اس محدود وقت میں اس کام کو کر دیا جائے تو اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
جلسہ کے بعد طلبہ اور طالبات کی طرف سے جو سوالات کئے گئے ان کی کل تعداد ۴۲ تھی۔ میں نے ہر سوال کا جواب دیا۔ یہاں کچھ منتخب سوالات اور ان کے جوابات درج کئے جاتے ہیں: سوال: اسلام میں دینی علم و دنیاوی علم میں تفریق ہے کہ نہیں۔ علم نافع اور علم غیر نافع میں کیا فرق ہے۔ جواب: دینی علم اور دنیاوی علم میں فرق نیت کے اعتبار سے ہے نہ کہ خود علم کے اعتبار سے۔ ہر علم ایک جائز علم ہے بشرطیکہ اس کو صحیح مقصد کے لیے حاصل کیا جائے۔ اسی طرح علم کا نافع ہونا یا غیر نافع ہونا خود علم کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اس کے استعمال کے اعتبار سے ہے۔ صحیح استعمال کسی علم کو نافع بناتا ہے اور غلط استعمال اس کو غیر نافع بنا دیتا ہے۔ سوال: ایسا کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کی ترقی کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ کی ترقی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
جواب: میرے لیے یا میرے مشن کے لیے ترقی کا لفظ کوئی درست لفظ نہیں۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ خدا کی ایک بے حد خصوصی مدد تھی کہ مجھے افکار کے جنگل میں صحیح فکر کی دریافت ہوئی اور پھر یہ بھی خدا کی خصوصی مدد تھی کہ انتہائی غیر موافق حالات میں مجھے یہ ہمت ہوئی کہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues