کہ بے علم نتواں خدا را شناخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۸
بے آمیز سچائی کے لیے کھڑا ہوں اور غیر مصالحتی انداز میں اس کے لیے کام کروں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک باب ہے۔
سوال: اکثر کہا جاتا ہے کہ ماں باپ کی فرماں برداری کرو۔ اگر ماں باپ نے تعلیم حاصل کرنے سے منع کر دیا تو یہ سننا ضروری ہے یا نہیں۔
جواب: قرآن میں ہے کہ ماں باپ اگر توحید سے روکیں تو تم ان کی بات نہ مانو۔ میں سمجھتا ہوں کہ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے علم بھی اس میں شامل ہے۔ کیوں کہ علم کے بغیر آدمی خدا کی سچی معرفت حاصل نہیں کر سکتا۔ ایک فارسی شاعر نے درست طور پر کہا ہے:
کہ بے علم نتواں خدا را شناخت
سوال: اعلیٰ تعلیم کا مطلب موجودہ دور میں صرف ڈاکٹر اور انجینئر بننا ہی کیوں سمجھا جاتا ہے۔ جواب: تعلیم کو اگر پروفیشنل تعلیم کے معنی میں لیا جائے تو یہ خیال درست ہوگا۔ مگر میرے نزدیک اعلیٰ تعلیم اعلیٰ شعور ہے۔ میرے نزدیک اعلیٰ تعلیم یافتہ وہ ہے جس کو اس کی تعلیم نے اعلیٰ شعور دیا ہو۔ تعلیم کے بارے میں اس قسم کی سوچ کا سبب یہ ہے کہ لوگ تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ کے فرق کو نہیں سمجھتے۔
سوال: آپ اپنی زندگی کا کوئی ایسا یادگار واقعہ بتائیے جس سے طالب علم کوئی نصیحت حاصل کر سکے۔ جواب: غالباً ۱۹۲۰ میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جو میری پوری زندگی کے لیے ایک رہنما واقعہ بن گیا۔ یہ واقعہ میں نے اپنی کتاب دین وشریعت (صفحہ ۱۴۰۔ ۱۴۱) میں درج کیا ہے۔ اس طرح اپنی زندگی کے ابتدائی دور ہی میں میرے اندر وہ چیز پیدا ہوگئی جس کو روح تجسس (spirit of inquiry) کہا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ روح تجسس کی حیثیت علمی ترقی میں بہت بنیادی ہے۔ چنانچہ میری بعد کی زندگی میں اس واقعہ کا دخل بہت زیادہ ہے۔ سوال: کیا یہ فتویٰ صحیح ہے کہ اگر کوئی مسجد ہے تو قیامت تک وہ مسجد ہی رہے گی۔ اگر یہ صحیح ہے تو آپ نے یہ کیوں کہا کہ مسلمانوں کو بابری مسجد سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues