Al-Risala · March 2005 · page 19

کہ بے علم نتواں خدا را شناخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۱۹

جواب: میں نے مسجد سے دست برداری کی بات نہیں کہی تھی بلکہ مسجد کے اشو پر احتجاجی سیاست کو چھوڑنے کی بات کہی تھی۔ جہاں تک علماء کے فتوئی کا تعلق ہے وہ بجائے خود درست ہے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ ہر کلیہ کا ایک استثناء ہونا ہے۔ فقہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ : تتغیر الأحكام بتغير الزمان والمكان ، اور یہ کہ الضرورات تبيح المحظورات اس بنا پر میری رائے ہے کہ اگر ضرورت شدید پیش آجائے تو مسجد کے مقام کی تبدیلی (relocation) جائز ہے۔ عرب ملکوں میں سینکڑوں مسجدوں کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے۔

سوال: آپ کے تعلیم حاصل کرنے میں والدین کا کیا کردار تھا۔

جواب: میرے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا جب کہ میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ البتہ میری تعلیم میں میرے چچا صوفی عبدالحمید کا بہت بڑا حصہ ہے۔ میرے خاندان میں انگریزی تعلیم کا رواج تھا۔ خاندانی ماحول کے اعتبار سے غالباً میں کسی اسکول میں داخل کر دیا جاتا اور پھر میری زندگی کا رخ بالکل دوسرا ہوتا۔ مگر میرے چچا صوفی عبد الحمید صاحب نے دینی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنے ذاتی خرچ پر مجھے مدرسہ میں داخل کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اعتبار سے میری زندگی میں صوفی عبدالحمید خاں مرحوم کا بہت بڑا حصہ ہے۔

سوال: معلوماتی فلم دیکھنا کیا اسلام میں جائز ہے۔

جواب: میرے نزدیک معلوماتی فلم کو دیکھنا جائز ہے۔ اسلام میں سب سے بڑی نا جائز بات یہ ہے کہ ہر بات کو جائز اور نا جائز کا مسئلہ بنایا جائے۔ اس معاملہ میں فقہ کا یہ اصول ایک مستقل رہنما کی حیثیت رکھتا ہے کہ: الأصل فى الأشياء الإباحة ۔ چیزوں میں اصل ان کا جائز ہوتا ہے۔ یعنی جس چیز کو قرآن وحدیث میں نا جائز نہ بتایا گیا ہو وہ اصولا جائز قرار پائے گی ۔ سوال: ایک پختہ انسان کے لیے کون سی صفات درکار ہیں۔

جواب: میرے تجربہ کے مطابق، پختگی (maturity) کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ مثلاً یہ فرق کہ کسی مقصد کو نظریاتی طور پر بیان کرنا ہو تو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page