Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

ہوٹل میکرينا (Tryp.Macarena) کے روم نمبر ۳۳۸ میں ہوں۔ یہاں آج رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ ہے۔ اس کے سر پر ترکی ٹوپی ہے۔ اس خواب کے بعد مجھے وہ دور یاد آيا جو ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ زمانہ میں اعظم گڑھ (اور دوسرے مقامات) میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت مسلم شرفاء جھبو دار ترکی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ میں بھی اس زمانہ میں ترکی ٹوپی پہنتا تھا۔ اس وقت اگرچہ ترکوں کی عثمانی خلافت ختم ہو چکی تھی مگر ان کے زیر اثر جو مسلم تہذیب بنی تھی وہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کے درمیان موجود تھی۔

یہ پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے درمیان کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ابھی انڈیا قدیم زرعی دور میں تھا۔ زرعی دور سے مراد وہ زمانہ ہے جب کہ مبنی بر زمین اکانومی (land-based economy) کا غلبہ تھا۔ زرعی دور میں معیشت کی بنیاد تمام تر زمین پر ہوتی تھی۔ زمین کے سوا کوئی اور اقتصادی ذریعہ اس زمانہ میں موجود ہی نہ تھا۔ چنانچہ سامان حیات زیادہ تر زمین داروں کے پاس ہوتا تھا۔ عام لوگ معمولی حیثیت میں زندگی گزارتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے گاؤں میں اور آس پاس کے پورے علاقے میں صرف دو فیملی تھی جس کے پاس گھوڑا ہوا کرتا تھا۔ ہماری فیملی اور خلیل خاں صاحب کی فیملی۔ اس زمانہ میں گھوڑا اسی طرح ثروت کا نشان تھا جس طرح آج موٹر کار کو ثروت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے میرا دھیان اپنے گاؤں کی طرف گیا جہاں میں پیدا ہوا تھا۔ میں نے غور کیا کہ ۱۹۳۰ء اور ۲۰۰۳ء کے درمیان ہمارے گاؤں میں کیا فرق ہوا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ پچھلے زمانہ میں ہمارے گاؤں میں صرف دو خاندان تھے جن کے پاس زیادہ سامان حیات موجود تھا۔ آج گاؤں کے تقریباً ہر خاندان کے پاس ساری سہولتیں موجود ہیں۔ مثلاً سڑک، بجلی، ٹیلی فون، پختہ مکان، کوکنگ گیس، کار، بچوں کے لیے بہتر تعلیم، علاج کا انتظام، سفر کی سہولت وغیرہ۔ ٹوپی کا مذکورہ خواب بظاہر بہت با معنی ہوتا ہے۔ غالباً اس کی تعبیر یہ ہے کہ پچھلے زمانہ میں عام لوگوں کو صرف ایک رنگین ٹوپی ملی ہوئی تھی جو ان کو ایک قسم کا تہذیبی فخر دیتی تھی۔ اس کے سوا حقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page