کہ بے علم نتواں خدا را شناخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۰
آئیڈیلیزم کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب کسی مقصد کے لیے اقدام کرنا ہو تو عملی صورت حال (practical situation) کو دیکھنا پڑتا ہے۔ یعنی نظری وضاحت کے وقت آدمی آئیڈیل ہو سکتا ہے مگر عملی کارروائی کے وقت اس کو پریکٹیکل بننا پڑتا ہے۔ سوال: ۱۱ ستمبر کے بعد ہر جگہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ گجرات میں جو کچھ ہوا اور کچھ دن پہلے مساجد میں بم بلاسٹ ہوئے ہیں۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔
جواب: ۱۱ ستمبر کو نیو یارک میں تشدد کا جو بھیانک واقعہ ہوا اس کو ثابت شدہ طور پر مسلمانوں نے کیا تھا۔ ایک حالیہ ٹیپ کے مطابق، اسامہ بن لادن نے خود یہ کہا ہے کہ لبنان کی تباہ شدہ مسلم عمارتوں کو دیکھ کر ان کے ذہن میں یہ انتقامی جذبہ آیا کہ نیو یارک ورلڈ ٹاور کو تباہ کیا جائے۔ لیکن یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ساری مسلم دنیا میں واحد مسلمان تھا جو اس غیر اسلامی فعل پر تڑپا اور اس کی مذمت کی۔ غالباً مسلم دنیا میں کوئی ایک شخص نہ تھا جو کھلے الفاظ میں اس غیر اسلامی فعل کو کنڈم کرے۔ یہ صحیح ہے کہ دوسری قوموں کے لوگ بھی تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں مگر دوسروں کا تشدد مسلمانوں کو یہ جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ بھی تشدد کرنے لگیں۔ سوال: ”علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے“ کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ اگر صحیح ہے تو کون سے علم کے بارے میں ہے۔ کیوں کہ دینی علم کے سر چشمہ خود اللہ کے رسول تو یثرب میں موجود تھے۔ جواب: قول رسول کے اعتبار سے یہ جملہ زیادہ مستند نہیں ہے۔ مگر قول فطرت کے اعتبار سے وہ بالکل درست ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا تقاضا ہے کہ علم جہاں بھی ملے اس کو حاصل کیا جائے۔ اسی طرح فطرت کا تقاضا ہے کہ علم دین کے ساتھ علم دنیا کو بھی پوری توجہ کے ساتھ حاصل کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تھے اس زمانہ میں آپ نے علم حرب سیکھنے کے لیے دو صحابی کو شام کی طرف بھیجا تھا۔
سوال: موت کا ایک دن مقرر ہے اور موت وقت سے پہلے واقع نہیں ہوتی۔ جس کی موت جیسی لکھی گئی ہے ویسی ہی ہوتی ہے۔ پھر جب کسی کی موت قتل سے ہوتی ہے تو قاتل کو سزا کیوں ہوتی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues