Al-Risala · March 2005 · page 21

کہ بے علم نتواں خدا را شناخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۱

ہے جبکہ اس کی موت قتل سے لکھی گئی تھی۔ اور اگر کوئی خودکشی کرلیتا ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو اسے سزا کیوں ہے۔ حالاں کہ اس کی موت خود کشی سے ہی ہوئی تھی۔ جواب: اسلام میں اعمال کا دار ومدار نیت (intention) پر ہے۔ قاتل کو سزا کسی کی موت پر نہیں دی جاتی بلکہ اس پر دی جاتی ہے کہ اس نے کسی کو مارڈالنا چاہا اور اپنے شعوری ارادہ کے تحت اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اسی طرح خود کشی میں اصل جرم کسی کا مر جانا نہیں ہے بلکہ اصل جرم یہ ہے کہ ایک شخص خدا کی رحمت سے اتنا زیادہ مایوس ہوا کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کا ارادہ کیا۔ دونوں حالتوں میں شرعی حکم کا تعلق داخلی نیت پر ہے نہ کہ کسی خارجی واقعہ پر۔ سوال: پڑھائی کہاں ختم ہوتی ہے۔

جواب: اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پڑھائی کہیں ختم نہیں ہوتی۔ علم کی دنیا لامحدود ہے، اس لیے علم کا سفر بھی لامحدود رہے گا۔ اسی کو ایک عربی مقولہ میں کہا گیا ہے کہ بچپن سے لے کر موت تک علم حاصل کرو (اطلبوا العلم من المهد الی اللحد)

سوال: آپ نے اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست میں حصہ کیوں نہیں لیا۔ جواب: ہندوستان جیسے ملک میں عمل کا آغاز الیکشن سیاست نہیں ہے بلکہ ذہن اور کردار کی تعمیر ہے۔ موجودہ حالت میں عملی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں۔ انڈیا میں مہاتما گاندھی نے اور پاکستان میں محمد علی جناح نے عملی سیاست کو نقطہ آغاز سمجھا۔ دونوں نے ہنگامہ خیز سیاست چلائی مگر مثبت نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کی تحریکیں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص کو دوبارہ اس غلطی کا تجربہ کرنا چاہیے۔

سوال: مولا نا صاحب! آپ نے جو اتنی کامیابی پائی ہے۔ آپ پڑھائی کس طرح کیا کرتے تھے۔ جواب: پڑھائی کا کوئی لگابندھا طریقہ نہیں۔ اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آپ پڑھنا شروع کردیں اور ہر دوسرے تقاضے کو ثانی حیثیت دے کر بس پڑھتے ہی رہیں۔ ایک اسکالر کے الفاظ میں، پڑھنے کے تین اصول ہیں، پڑھنا، پڑھنا، اور آخر میں پھر پڑھنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page