Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۲
سوال: ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمیشہ اندھیرے میں بیٹھتے ہیں ، کیوں۔
جواب: میرا اصول یہ ہے کہ رات کے وقت اگر مجھ کو پڑھنا ہو تو میں اپنے کمرہ کی روشنی جلاتا ہوں اور اگر پڑھنا نہ ہو تو میں روشنی پسند نہیں کرتا ۔ کیوں کہ غور وفکر یا عبادت کے وقت روشنی ایک قسم کے خلل (distraction) کی حیثیت رکھتی ہے۔
سوال: موجودہ دور میں جو مسلمانوں پر مظالم ہورہے ہیں اس سلسلہ میں طالب علموں کو کیا کرنا چاہئے۔ جواب: اس معاملہ میں طالب علم اور عالم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ہر ایک کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ دعا کرے اور اس کے بعد دونوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو قرآن کی روشنی میں سمجھیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے ، میں نے پایا ہے کہ قرآن کے مطابق ، یہ مظالم کسی غیر کا ظلم نہیں بلکہ وہ خود مسلمانوں کی اپنی نادانیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے اس معاملہ میں اصل کام اپنی نادانی کو ختم کرنا ہے نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنا۔
۴ ستمبر کی شام کو دواردو اخباروں کے نمائندوں نے مشترک طور پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ محمد خواجہ نواب (رہنمائے دکن ذیلی) اور محمد تقی (ورق تازہ) ان لوگوں کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں تیزی سے ایک تبدیلی آرہی ہے۔ اس تبدیلی کو کوئی نام دینا ہو تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جذباتی انداز فکر سے ہٹ کر تعمیری طرزِ فکر پیدا ہونا۔ اس تبدیلی کی ایک مثال یہ ہے کہ گنیش چترتھی کے ہندو جلوس پر مسلمان پہلے بھڑکتے تھے اور اس کے روٹ بدلنے پر اصرار کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں ہر سال فساد ہوتا تھا۔ اب چند سال سے ایسا ہورہا ہے کہ مسلمان گنیش چترتھی کے جلوس پر نہیں بھڑکتے۔ حتیٰ کہ وہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ چنانچہ اب اس سوال پر ہندو۔ مسلم جھگڑا بھی ختم ہوگیا ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (پونہ ایڈیشن) کا شمارہ ۳ ستمبر ۲۰۰۳ میں ایک رپورٹ ملیشیا کے انور ابراہیم کے بارے میں تھی۔ اس کا عنوان یہ تھا:
Malaysia's Anwar is a free man after six years.
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues