Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳
انور ابراہیم سے میری ملاقات ملایشیا کے سفر (جولائی ۱۹۸۳) میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ ملایشیا میں ڈپٹی پرائم منسٹر تھے۔ پھر وہ پرائم منسٹر مہاتیر محمد کے حریف بن گئے اور ان پر کھلی تنقید کرنے لگے۔ اس کے بعد انہیں جیل میں بند کر دیا گیا۔ جیل کے اندر ان پر اتنی زیادہ سختیاں ہوئیں کہ اس کے بعد وہ وہیل چہر پر رہنے لگے۔ اب جب کہ وہ حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھے تو انہیں رہا کر دیا گیا: Anwar, broken and beaten, confined to a wheel chair and constrained by a neckbrace, probably isn't a political threat anymore to the ruling United Malay Nationalist Organisation, which has ruled Malaysia since it became independent (p. 9)
میرے نزدیک اس معاملہ میں مہاتیر محمد کا کیس اگر ظلم کا کیس ہے تو انور ابراہیم کا کیس نادانی کا کیس۔ اورنگ آباد کا انگریزی اخبار لوک مت ٹائمس کا شمارہ ۴ ستمبر ۴۰۰۴ میں ایک رپورٹ گرو گرنتھ صاحب کے بارے میں تھی۔ یہ گرنتھ ۲۰۰ سال پہلے مرتب کیا گیا تھا۔ اس میں ۳۰ لوگوں کے کلام ہیں جن میں ۷ مسلمان ہیں۔ سکھ عقیدہ کے مطابق، گرو گرنتھ صاحب صرف ایک گرنتھ نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک زندہ گرو کی ہے۔ سکھوں کے آخری اور دسویں گرو، گرو ارجن سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ اب سکھوں میں کوئی گرو نہیں آئے گا۔ یہ گرنتھ ہی ان کے لیے زندہ گرو ہوگا: ان کے الفاظ یہ (Guru Maneo Garanth) تھے ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک گرنتھ کو زندہ گرو ماننا بڑا عجیب ہے۔ مگر اس عقیدہ سے سکھ فرقہ کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ اگر سکھوں میں گرنتھ کو زندہ گرو ماننے کا عقیدہ نہ ہوتا تو ان کی وحدت اور اجتماعیت مشکل ہو جاتی۔ یہاں انگریزی کی ایک ضخیم کتاب دیکھی۔ یہ با تصویر کتاب ۷۳۶ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا:
Encyclopaedia of Modern Bodybuilding by Arnold Schawarzenegger جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کتاب میں باڈی بلڈنگ کے طریقے تفصیل کے ساتھ بتائے گئے تھے۔ موجودہ زمانہ میں باڈی بلڈنگ ایک مستقل فن بن گیا ہے۔ اس پر کثیر تعداد میں چھوٹی اور
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues