Al-Risala · March 2005 · page 24

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۴

بڑی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ اس جدید ذہن کے نتیجہ میں یوگا کو نئی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ چنانچہ آج ساری دنیا میں یوگا کے سنٹر بنے ہوئے ہیں۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ سلام ومصافحہ کے بعد انہوں نے کہا: آپ نے مجھ کو پہچانا کہ نہیں۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ جملہ آداب ملاقات کے خلاف ہے۔ ملنے والے کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہے جس سے دوسرے کو شرمندہ ہونا پڑے۔ مثلاً آپ کے سوال پر اگر میں یہ کہوں کہ میں نے نہیں پہچانا تو یہ میرے لیے بھی اور آپ کے لیے بھی شرمندگی (embarassing) کی ایک بات ہوگی۔ میرے لیے اس بنا پر کہ میں لوگوں کو یاد نہیں رکھتا۔ آپ کے لیے اس بنا پر کہ گویا آپ اتنے اہم نہیں ہیں کہ کوئی آپ کو یاد رکھے۔ آپ کو چاہیے کہ اس قسم کا جملہ سرے سے نہ بولیں یا خود ہی پوچھے جانے سے پہلے اپنا تعارف بتادیں۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پرانا مثل ہے: سفر نمونہ سقر (سفر جہنم کا نمونہ ہے) میں نے کہا کہ یہ مثل ایک غلط مفروضہ پر قائم ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ سفر یا تو پر راحت ہوگا یا پر مشقت۔ مگر زیادہ صحیح تقسیم یہ ہے کہ اس کو تجربہ کے اعتبار سے لیا جائے۔ سفر کو تجربہ کے معیار سے جانچا جائے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سفر ہر حال میں مفید ہے۔ کیوں کہ سفر میں ایسے تجربات ہوتے ہیں جو گھر پر رہ کر نہیں ہوتے۔ سفر سے اگر آپ کو سبق اور تجربہ ملے تو سفر کامیاب ہے، خواہ آپ کا سفر آرام کے ساتھ طے ہوا ہو یا تکلیف کے ساتھ۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں بہت دنوں سے الرسالہ پڑھتارہا ہوں۔ مگر اب آپ کے الرسالہ میں سفر نامہ اور خبر نامہ بہت زیادہ آنے لگا ہے۔ اس سے میری دلچسپی کم ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی بات وہی لوگ کر سکتے ہیں جو الرسالہ کو تفریح کے لیے پڑھتے ہوں۔ الرسالہ محض ایک ماہنامہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک مشن ہے۔ سفرنامہ اور خبرنامہ مشن کی رفتار کو بتاتے ہیں۔ جولوگ الرسالہ کو ایک مشن سمجھتے ہوں وہ سب سے پہلے سفر نامہ ہی پڑھتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح یہ مشن پھیل رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ الرسالہ میں اگر خبر نامہ اور سفر نامہ نہ ہو تو وہ صرف عام

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page