Al-Risala · March 2005 · page 25

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵

قسم کا ایک ماہنامہ بن جائے گا۔ مشن کے اعتبار سے اس کی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ کی ایجنسی چلاتا ہوں۔ پہلے میرے پاس الرسالہ کے ۵۰۰ خریدار تھے اب ان کی تعداد گھٹ کر ۱۵۰ ہوگئی۔ میں نے پوچھا کہ ۵۰۰ کی تعداد میں ایسے لوگ کتنے تھے جو پابندی کے ساتھ وقت پر اس کی قیمت ادا کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہی ڈیڑھ سو جو کہ اب باقی ہیں۔ بقیہ لوگ بہت زیادہ دوڑاتے تھے اور مشکل سے اس کی قیمت ادا کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ پھر حقیقی خریدار یہی ڈیڑھ سو ہیں۔ باقی لوگ غیر سنجیدہ تھے۔ پھر اس میں تعجب کی کیا بات۔ دو انگریزی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ میری باتوں کا غیر سنجیدہ انداز میں جواب دے رہے تھے۔ وہ بار بار موضوع سے ہٹ کر بولنے لگتے تھے۔ یہ بات اردو میں ہو رہی تھی۔ پھر میں نے انگریزی میں بولنا شروع کیا۔ میں نے بتایا کہ آرٹ آف تھنکنگ کیا چیز ہے۔ اس کے بعد دونوں کا لہجہ اچانک بدل گیا۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ انگریزی اخبار کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں: بات وہ ہے جو پائیر میں چھپے ۔ یہ ذہن آج تک موجود ہے۔ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتے ہیں کہ باوزن بات وہ ہے جو انگریزی زبان میں کہی جائے۔ ایک اجتماع میں ہندو اور مسلم دونوں شریک تھے۔ یہاں مجھے مسلمانوں کی فیملی لائف کے بارے میں آدھ گھنٹہ بولنا تھا۔ مجھ سے پہلے ایک بزرگ عالم نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کچھ حدیثیں سنائیں ۔ ان میں سے ایک حدیث یہ تھی: تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الامم (مشکوة المصابیح ، رقم الحدیث ۳۰۹۱)

یہ حدیث اکثر خطبات میں سنائی جاتی ہے۔ مگر درایت کے نقطہ نظر سے مجھے اس حدیث میں کلام ہے۔ ایک یہ کہ کسی خاتون کے بارے میں پیشگی طور پر یہ جاننا ممکن نہیں کہ وہ زیادہ بچہ پیدا کرنے والی ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر یہ کوئی واقعی اصول ہو تو خود پیغمبر نے نعوذ باللہ اپنے مقرر کئے ہوئے اصول کے خلاف عمل فرمایا۔ کیوں کہ خدیجہ کے سوا آپ کی تمام بیویاں بشمول عائشہ بے اولاد تھیں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں پہلے الرسالہ پڑھتا تھا۔ اس سے مجھے بہت فائدہ تھا۔ اس سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page