Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۶
میرے گھر کے جھگڑے ختم ہو گئے ۔ میرے بزنس میں ترقی ہوئی ۔ مگر اب میں الرسالہ نہیں پڑھ رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ کاروبار بڑھنے کے بعد میری مصروفیت بڑھ گئی اور اب پڑھنے کا وقت نہیں ملتا ۔ میں نے کہا کہ جب آپ کو الرسالہ سے فائدہ ہوا اور اس کے ذریعہ آپ کے معاملات درست ہوئے تو اب آپ کو اس کے شکرانے کے طور پر یہ کرنا چاہیے کہ دوسرے بہت سے لوگ جن کے کام بے اصولی اور بے شعوری کی وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں ان کے نام الرسالہ جاری کروائیں ۔ یہ تو ایک غیر انسانی بات ہے کہ آپ اس کو مفید سمجھنے کے باوجود نہ پڑھیں اور نہ دوسروں کو پڑھوائیں ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک غیر مسلم ہیں جو اسلام کی بہت تعریف کرتے ہیں اور اپنے کو مسلمان بتاتے ہیں ۔ مگر انہوں نے اپنا نام نہیں بدلا ۔ ایسے لوگوں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا ۔ میں نے کہا کہ آپ کو نام نہ بدلنے والوں کی فکر ہے مگر جو لوگ مسلمان جیسا نام رکھے ہوئے ہیں مجھے تو ان کا معاملہ زیادہ مشتبہ نظر آتا ہے ۔ کیوں کہ جس نے نام نہیں بدلا وہ کم از کم منافق نہیں ۔ لیکن جو لوگ مسلم نام رکھ کر اسلام کے خلاف عمل کرتے ہیں ان کا کیس تو منافقت کا کیس ہے ۔ اور قرآن میں آیا ہے کہ ان المنافقین في الدرك الاسفل من النار (النساء، ۱۴۵)
۵ ستمبر کی شام کو ناندیڑ سے نلنگا کے لیے بذریعہ کار روانگی ہوئی ۔ یہ ضلع لاتور کا ایک ٹاؤن ہے۔ میرے نواسے صہیب چاؤش کی یہاں شادی تھی ۔ اس سلسلہ میں نلنگا جانا پڑا ۔ راستہ میں پہلا تجربہ یہ ہوا کہ سڑک کے دونوں طرف ہری بھری دنیا تھی ۔ مگر اس کے درمیان جو سڑک تھی وہ کافی خراب تھی ۔ چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر تین گھنٹہ میں طے ہوا ۔ سڑک کے دونوں طرف ہرا بھرا ماحول بتا رہا تھا کہ خدا نے ہندوستان کو اپنی نعمتوں سے نوازنے میں کمی نہیں کی ۔ مگر سڑک کے ہچکولے بتاتے تھے کہ انسانی کرپشن نے اس خوبصورت دنیا کو صرف بدصورت بنانے کا کام کیا ہے ۔
ہماری گاڑی کے ڈرائیور کا نام دیوانند مندے تھا ۔ اس نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں ۔ اس نے کہا کہ ایک بار ایک لیڈر ان کی گاڑی پر سفر کر رہے تھے ۔ جب کبھی کوئی گڑھا آتا اور گاڑی کو جھٹکا لگتا تو وہ کہتے : سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues