Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۷
ڈرائیور نے بتایا کہ ایک بار ایک لیڈر ابو عاصم اعظمی میری گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ راستہ میں ٹول برج کی چوکی آئی۔ یہاں اسمبلی کے ممبروں کو ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ لیکن چوکی والوں نے نہیں مانا۔ ڈرائیور نے کہا کہ اس پر ابو عاصم اعظمی سفر کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم نہیں جانتے، ابو عاصم اعظمی کون ہیں۔ اس پر ابو عاصم اعظمی باہر آئے۔ انہوں نے چوکی والوں سے کہا کہ کیا تم بال ٹھاکرے کو جانتے ہو۔ چوکی والوں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے کہا کہ میں بال ٹھاکرے کا باپ ہوں۔ اس پر چوکی والے گھبرا گئے اور کہا کہ جاؤ، جاؤ۔
راستہ میں ڈرائیور نے چائے پینے کے لیے ایک جگہ گاڑی روکی۔ یہاں ایک ٹوٹی پھوٹی دکان تھی ۔ اس پر لکھا ہوا تھا گولڈن ڈھابہ۔ میں نے کہا کہ جب لکھنا ہی تھا تو فائیو اسٹار ڈھابہ لکھ دیا ہوتا۔ یہ نام ایک علامت تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل لوگ بڑے بڑے نام رکھنا چاہتے ہیں، بڑے بڑے کام کرنے کا شوق ان کے اندر نہیں۔
تقریبا تین گھنٹہ کے سفر کے بعد ہم لوگ تلنگا ٹاؤن پہنچے۔ یہاں میرے قیام کا انتظام گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ یہ ایک ہری بھری دنیا میں بنایا گیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ ملاقات کے لیے اکٹھا ہو گئے ۔ ہم لوگ گیسٹ ہاؤس کے لان پر بیٹھ گئے اور وہاں دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ گفتگو کے دوران ایک بات میں نے یہ کہی کہ تلنگا (ضلع لاتور) کا ایک حصہ ہے۔ ضلع پہلے نظام اسٹیٹ میں شامل تھا۔ قاسم رضوی کا تعلق اسی علاقہ سے تھا۔ لاتور میں غالبا ابھی بھی ان کا مکان موجود ہے۔ قاسم رضوی نے یہ تحریک چلائی کہ حیدر آباد اسٹیٹ انڈین یونین میں شامل نہ ہو بلکہ اس کو ایک آزاد مسلم اسٹیٹ کی حیثیت دی جائے۔
یہ کوئی نظریہ نہ تھا بلکہ وہ ایک سیاسی رومانیت تھی جو عملاً ممکن ہی نہ تھی۔ مگر حیدر آباد کے تقریباً تمام مسلمان قاسم رضوی کے حامی بن گئے۔ اور جب آزاد حیدر آباد نہ بن سکا تو سارے مسلمانوں نے اس کی ذمہ داری سابق ہوم منسٹر سردار پٹیل پر ڈال دی۔ میرے علم کے مطابق ، اس وقت مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص نہ اٹھا جو یہ کہے کہ آزاد حیدر آباد کا نہ بننا در اصل مسلمانوں کے سیاسی غبارہ کا ٹوٹنا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues