Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۸
اس کے لیے یہی مقدر تھا کہ وہ ایک دن ٹوٹ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ احتساب خویش کا معاملہ ہے نہ کہ احتجاج غیر کا معاملہ۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں بہت زیادہ تکرار ہوتی ہے۔ آپ ایک ہی بات کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسی قسم کے ایک قاری سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الرسالہ میں تکرار کی شکایت کی۔ میں نے مثال پوچھی تو وہ کوئی مثال نہ دے سکے۔ پھر میں نے الرسالہ کے ایک سال کے شمارے ان کے سامنے رکھ دیے اور کہا کہ آپ بتائیے کہ اس میں کون سی بات تکرار والی ہے۔ وہ تکرار کی ایک مثال بھی پیش نہ کر سکے۔ اصل یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر اعتراف کا حوصلہ نہیں ہوتا وہ ہمیشہ اس قسم کا شوشہ نکالتے ہیں۔ مثلاً الرسالہ ۱۹۷۶ء سے ایک ہی شخص کی تحریروں کے ذریعہ نکل رہا ہے۔ یہ صحافت کی تاریخ میں ایک استثنائی مثال ہے۔ اب جو لوگ اس بات کا اعتراف نہیں کرنا چاہتے وہ بطور خود اپنے ذہن میں ایک مفروضہ قائم کر لیتے ہیں۔ وہ یہ کہ صاحب الرسالہ کے پاس چند باتیں ہیں اسی کو وہ بار بار دہراتے ہیں۔ وہ اپنے خیالی مفروضہ کو ایک واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ہمیشہ پائے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ قرآن کے بارے میں بھی اس قسم کی بات کہنے والے قدیم عرب میں موجود تھے۔ میں نے کہا کہ جب بھی کوئی شخص تنقیدی بات کہے تو آپ فورا اس سے مثال پوچھیں۔ اگر وہ اپنے دعویٰ کی کوئی مثال پیش کرے تو اس کے دعویٰ کو درست سمجھیں اور اگر وہ اپنے دعویٰ کے حق میں کوئی مثال پیش نہ کر سکے تو سمجھ لیجیے کہ وہ مریضانہ ذہنیت کا شکار ہے۔ وہ دلیل اور مفروضہ کے فرق کو نہیں سمجھتا۔ تلنگانہ میں میرے نواسے عبد السمیع چاؤش (صہیب) کی شادی ڈاکٹر خورشید صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی۔ نکاح کی تقریب میں بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے جس میں کئی ہندو بھی شامل تھے۔ مہاراشٹر کے سابق چیف منسٹر بھی اس میں شرکت کے لیے بمبئی سے آئے تھے۔ اس موقع پر مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی۔ میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی جس میں بتایا کہ اسلام کے مطابق، کامیاب زندگی کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اجتماعی زندگی میں، خواہ وہ فیملی کے اندر ہو یا فیملی کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues