Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲۹
باہر، ہمیشہ لوگوں کے اندر اختلافات (differences) پیش آتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے بلکہ اختلاف کو منیج (manage) کرنا ہے۔ اس مسئلے کا فارمولہ ایک لفظ میں یہ ہے: Art of difference management. ۵ ستمبر کی شام کونلنگا سے ناندیڑ کے لیے واپسی ہوئی۔ راستہ میں بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ میں نے سوچا کہ بارش کا نظام بھی کیسا عجیب ہے۔ خدا نے پانی کی بہت بڑی مقدار بنائی اور اس کو سمندروں میں ذخیرہ کر دیا جو کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ سمندر کے اس پانی کو فطری طور پر کھاری بنا دیا۔ یہ کھاری پن پانی کو خراب ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ انسان اس کھاری پانی کو کیسے استعمال کرے۔ خدا نے اس مقصد کے لیے پانی کو ہلکا اور نمک کو بھاری بنا دیا۔ چنانچہ جب سمندر کے اوپر سورج کی گرمی پڑتی ہے تو اس گرمی سے پانی بھاپ بن کر اوپر اٹھتا ہے اور اس کا نمک کا حصہ بھاری ہونے کی وجہ سے نیچے رہ جاتا ہے۔ یہ پانی اوپر جا کر بادل کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور مختلف اسباب کے تحت دوبارہ بارش بن کر زمین پر برستا ہے۔ اس فطری نظام کے تحت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کھاری پانی کے بجائے میٹھا پانی انسان کو اپنے استعمال کے لیے ملے۔ شام کو ہم لوگ واپس ہو کر مغرب بعد ناندیڑ پہنچے۔ شام کو یہاں اس وقت کوئی پروگرام نہیں تھا۔ میں نے کچھ دیر سفرنامہ لکھوایا اور اس کے بعد عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر سو گیا۔ ۶ ستمبر کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد دوبارہ حسب معمول ملاقات وغیرہ کا پروگرام جاری رہا۔ صبح کے 11 بجے تک میں اپنی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں اخبارات دیکھے اور سفرنامہ مرتب کیا۔ ۶ ستمبر کو 11 بجے عبد القيوم صاحب کی رہائش گاہ پر جانا تھا۔ انہوں نے دوپہر کے کھانے پر کئی لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ ۔ ان لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ میں نے حاضرین کو آداب زندگی سے متعلق کئی حدیثیں سنائیں۔ انہوں نے ان حدیثوں کو بہت پسند کیا۔
ایک بات میں نے کہی کہ کامیاب زندگی کے لیے لچک بہت ضروری ہے۔ اس معاملہ میں امریکا کے صغیر اسلم صاحب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان سے جب کسی کے ساتھ اختلافی معاملہ پیش
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues