Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

معنوں میں سہولیات زندگی انہیں حاصل نہ تھی۔ جب کہ آج یہ حالت ہے کہ زمانہ کی تبدیلی کے نتیجہ میں دولت اور سہولیات زندگی کا ایک سیلاب آچکا ہے جس میں ہر آدمی کو اپنا حصہ مل رہا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے مزید میری سمجھ میں آیا کہ مسلم رہنماؤں کے دئے ہوئے ذہن کی بنا پر آج بھی مسلمان ایک سنگین غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ عثمانی خلافت کے دور اور مغل سلطنت کے دور کو عظمت کا دور سمجھتے ہیں اور اس کے ختم ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ اس معاملہ میں مسلم نفسیات کی ترجمانی دہلی کے ایک قدیم عالم نے ان الفاظ میں کی تھی: ”مسلمان کے سر سے عزت کی پگڑی اسی وقت اتر گئی جب کہ دہلی میں مغل سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔“ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے جو الفاظ لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی وہ لوگ اسی قدیم نفسیات میں جی رہے ہیں۔ حالاں کہ لکھنے اور بولنے والے سمیت تمام مسلمان آج جن سہولیات سے فائدہ اٹھارہے ہیں، وہ عثمانی دور اور مغل دور میں کسی کو حاصل نہ تھیں، حتیٰ کہ بادشاہوں اور نوابوں اور جاگیر داروں کو بھی نہیں۔

کچھ دن پہلے میرے پاس ایک مسلمان ملاقات کے لیے اپنی نئی کار پر بیٹھ کر آئے۔ ان کے ہاتھ پر ایک شاندار گھڑی بندھی ہوئی تھی اور جیب میں خوبصورت قلم لگا ہوا تھا۔ ان کے چہرے پر لگی ہوئی خوبصورت عینک دیکھی جو ان کے شخصی وقار میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ بیٹھتے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان سنانے لگے۔ اتنے میں ان کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس کو کان پر رکھ کر وہ دور کے کسی صاحب سے بات کرنے لگے۔ جب وہ بات کر چکے تو میں نے ان سے پوچھا کہ جس عثمانی دور اور مغل دور کو آپ لوگ اپنے لیے بڑی چیز سمجھتے ہیں کیا اس زمانہ میں کوئی ایک بھی مسلمان ایسا تھا جس کے پاس موبائل ٹیلی فون ہو یا اس کے پاس موٹر کار ہو یا اس کے پاس ایسی گھڑی ہو جو آپ اس وقت پہنے ہوئے ہیں، یا وہ آپ جیسی عینک پہن سکتا ہو جو آپ کی شخصیت کو دو بالا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا ایک مسلمان قدیم زمانہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page