Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۰
آتا ہے تو وہ اس کو زیادہ بڑھنے نہیں دیتے ۔ یہ کہہ کر وہ اس کو ختم کر دیتے ہیں کہ: چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر بنسر اج اور دوسرے لوگوں نے اس فارمولے کو بہت پسند کیا۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ اکثر دعوہ ورک کا ذکر کرتے ہیں۔ دعوہ ورک کیا ہے۔ میں نے کہا کہ دعوہ ورک دراصل یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کیا جائے۔ خدا نے ایک معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت ہے۔ اس کے بعد خدا نے موجودہ زمین پر انسان کو آباد کیا۔ خدا کے نقشہ کے مطابق ، زمین ایک مقام امتحان (testing ground) ہے۔ یہاں کی پوری زندگی یہی امتحان ہے۔ امیری اور غریبی ، مشکل اور آسانی سب امتحان کے پرچے ہیں۔ اس امتحان میں جو لوگ کوالیفائی کریں ان کو موت کے بعد جنت میں رہنے کا سرٹیفکٹ دیا جائے گا جہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی گزاریں گے۔ خدا کے اس تخلیقی منصوبہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کا نام دعوت ہے۔ دعوہ ورک کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں۔
ظہر کی نماز عبد القيوم صاحب کی مسجد میں پڑھی۔ یہ ایک خوبصورت مسجد ہے جو عبد القيوم صاحب نے اپنے گھر کے پاس بنائی ہے۔ میں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں کے اندر مسجد کی صورت میں عبادت کا ایک نظام قائم ہے اسی طرح دعوت کا بھی ایک باضابطہ نظام ہونا چاہیے۔ دعوت کا کام اسی طرح منظم انداز میں کرنے کی ضرورت ہے، جس طرح عبادت کو منظم انداز میں ادا کیا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسپتال بنانا ، تعلیمی ادارے بنانا، سماجی فلاح کے کام کرنا، اور اسی طرح کے دوسرے کام دنیوی معنی میں انسان کی خدمت ہیں۔ وہ انسان کی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہیں۔ مگر اس قسم کے تمام کام صرف سکندری حیثیت رکھتے ہیں۔ زیادہ بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر شعوری بیداری (intellectual awakening) لائی جائے۔ لوگوں کے اندر روحانی ترقی (spiritual development) پیدا کیا جائے۔ انسان کی اندرونی شخصیت (innerpersonality) کو ربانی شخصیت بنایا جائے۔ یہی وہ عمل ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں کام آئے گا۔ بقیہ تمام کام دنیوی کام ہیں۔ وہ اسی دنیا میں رہ جانے والے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues