Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۱
ایک صاحب نے میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج بنانے کی بات کی۔ میں نے کہا کہ یہ کام کا سر سید ماڈل ہے جو بدقسمتی سے آج تک مسلمانوں کے ذہن پر حاوی ہے۔ سرسید ماڈل یہ تھا کہ مسلمانوں کی یونیورسٹی بنائی جائے مگر اس ماڈل میں اچھی اسکولنگ کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم کا گنبد تو بن گیا مگر اس کا فائدہ مسلمانوں کو بہت کم ملا۔ کیوں کہ مسلم طلبہ اسکولنگ میں کمزور ہونے کی وجہ سے اگلے ٹسٹ میں پورے نہ اتر سکے۔ اس کے مقابلہ میں کرسچین ماڈل زیادہ صحیح ہے۔ ان لوگوں نے اسکولنگ کی اہمیت کو سمجھا۔ سارے انڈیا میں انہوں نے بہترین اسکول کھول دیے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اسکولوں میں پڑھے ہوئے طلبہ کالج اور یونیورسٹی میں چھا گئے۔ ناندیڑ کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک اندازہ یہ ہوا کہ یہاں کے لوگ سادہ مزاج کے لوگ ہیں ۔ وہ اختلافی بات پر زیادہ بحث نہیں کرتے۔ وہ نہایت آسانی سے اپنی رائے کے خلاف بات کو مان لیتے ہیں۔ یہاں کے لوگ گویا کہ’’چلو یہ بھی ٹھیک ہے‘‘ کے مزاج پر ڈھلے ہوئے پیدا ہوئے ہیں۔
ایک سوال پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل ہر آدمی کی زندگی کا مرکز و محور صرف ایک ہے، اور وہ ہے پیسہ کمانا۔ اور وہ پیسہ بھی کس کے لیے، صرف اپنی اولاد کے لیے۔ گویا کہ ہر آدمی اپنی اولاد کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے۔ ہر آدمی خود تو محنت و مشقت سے پیسہ کماتا ہے مگر اپنی اولاد کے لیے وہ یہ چاہتا ہے کہ کسی محنت کے بغیر اس کو سب کچھ مل جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ اولاد کے ساتھ دشمنی ہے۔ بلا محنت کا پیسہ (easy money) آدمی کو بگاڑتا ہے۔ محنت کی روزی سب سے اچھی روزی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو محنت کی وراثت دیں نہ کہ آرام و راحت کی وراثت ۔ ۶ ستمبر کی شام کو ڈاکٹر ہنسراج ملاقات کے لیے آئے ۔ ان کے ساتھ تقریباً ۱۵ آدمی تھے، ہندو بھی اور مسلمان بھی۔ ان لوگوں سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ وارانہ نفرت ہے۔ یہ بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ مہاتما گاندھی کی تحریک انگریزوں سے نفرت کی بنیاد پر اٹھی اور محمد علی جناح کی تحریک ہندوؤں سے نفرت کی بنیاد پر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues