Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۲
تھی۔ ہندو اور مسلمان دونوں اسی منفی مزاج کو لے کر آزاد ہندوستان میں داخل ہوئے۔ اب پہلے والا نشانہ موجود نہیں۔ لیکن مزاج وہی ہے۔ چنانچہ اب ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں اور مسلمانوں میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ہندوستان میں نفرت کی بنیاد بہت گہری ہے اور اس کو گہری بنیادوں پر ختم کرنا ہوگا۔ اس مجلس میں کئی جرنلسٹ موجود تھے۔ ان میں سے دو کے نام یہ ہیں: رام پرشاد کھنڈ موال اور وجے نلگیر (دیینک ہندوستان)۔ ان لوگوں سے دیر تک ملکی اور قومی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک اخباری نمائندہ نے یہ سوال کیا کہ نیشنل انٹیگریشن کی فیلڈ میں آپ کافی کام کرتے رہے ہیں۔ نیشنل انٹیگریشن کے لیے آپ کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جب بھی مختلف گروپ کسی سوسائٹی میں رہیں گے تو وہاں اختلافات (differences) آئیں گے۔ پہلے لوگوں کا فارمولا یہ تھا کہ اختلاف مٹاؤ تا کہ اتحاد قائم ہو۔ میں نے کہا کہ یہ ایک غیر عملی فارمولا ہے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا ممکن ہی نہیں۔ صحیح فارمولا یہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ اختلافات کو میچ (manage) کرنا جانیں۔ میں لوگوں کو وہ حکمت بتاتا ہوں جس کو میں نے یہ نام دیا ہے:
Art of difference management. یعنی اختلاف کو برداشت کرو تا کہ اتحاد قائم ہو۔
ایک سوال بابری مسجد کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کو پوری طرح کورٹ کے حوالہ کر دینا چاہیے۔ اگر بالفرض موجودہ حالات میں کورٹ یہ فیصلہ دے کہ بابری مسجد کو ری لوکیٹ کر دیا جائے تو مسلمانوں کو اس پر راضی ہو جانا چاہیے۔ عرب ملکوں میں سٹی پلاننگ کے تحت سیکڑوں مسجدوں کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ہے۔
۶ ستمبر کی شام کو اسلام پسند حلقہ کے کئی لوگ ملاقات کے لیے آ گئے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تصویر (image) ساری دنیا میں خراب ہو گئی ہے۔ ساری دنیا میں مسلمان ایکسٹریمسٹ، تشدد پسند اور جنگجو سمجھے جاتے ہیں۔ اس امیج کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues