Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۳
باقی رکھتے ہوئے کوئی بھی مثبت کام نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کی سب سے اہم ذمہ داری دعوت ہے۔ کشیدگی کے ماحول میں دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ پھر میں نے کہا کہ مسلمانوں کی امیج بگاڑنے کی ذمہ داری میڈیا پر نہیں ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری خود ہمارے علماء اور رہنماؤں پر ہے۔ یہ انہی لوگوں کی غلط رہنمائی ہے جس نے یہ مسئلہ پیدا کیا۔
ثنا اسکول ناندیڑ کا ایک معیاری اسکول ہے۔ اس کی خاتون پرنسپل مسز معراج النساء نے ایک واقعہ بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اسکول کی ایک خاتون ٹیچر، امت المتین نے بتایا کہ ان کی والدہ ریگولر طریقہ سے اپنے بیٹے کو الرسالہ پڑھواتی تھیں۔ ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ الرسالہ انسان کو اعتدال پسند بناتا ہے۔ اور اعتدال پسندی اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔
پرنسپل معراج النساء نے اپنے بارے میں کہا کہ میں الرسالہ برابر پڑھتی ہوں۔ اس کو پڑھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ برائی کوئی ابدی چیز نہیں، برائی کو اچھائی سے بدلا جاسکتا ہے۔ الرسالہ کے بارے میں اس قسم کے تاثرات کئی لوگوں نے بتائے۔ میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف کچھ لوگ الرسالہ کو برا بھلا کہتے ہیں، حتیٰ کہ بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ الرسالہ مسلم دشمنوں کا آلہ کار ہے۔ آخر یہ دو متضاد رائیں کیوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی قسم کی رائے ان لوگوں کی ہے جو الرسالہ کے بارے میں رائے بنانے کے لیے خود الرسالہ کو دیکھتے ہیں۔ وہ براہ راست الرسالہ کو پڑھ کر اس کے بارے میں اپنی رائے بناتے ہیں۔ دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جو سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ جو اخباری رپورٹوں کو پڑھتے ہیں اور اس کو الرسالہ کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ رائے قائم کرنے کا یہ دوسرا انداز انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اس معاملہ میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ خود الرسالہ کے مضامین سے اپنی رائے بنائے یا وہ اس بارے میں بالکل خاموش رہے۔ کچھ تعلیم یافتہ نو جوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آج کل جہاد کے نام پر جو تشدد جگہ جگہ ہو رہا ہے اس کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues