Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۴
ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے اسلام کا یہ تصور دیا کہ اسلام سیاسی اقتدار چاہتا ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کا سیاسی اقتدار قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ یہاں تک کہ ضرورت ہو تو وہ جنگ تک جا سکتے ہیں۔ اس قسم کے نظریات جو موجودہ زمانہ میں چلائے گئے اس کا براہ راست نتیجہ موجودہ تشدد کلچر ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یا تو ہمیں اسلامی اقتدار قائم کرنا ہے، یا اسی راہ میں لڑ کر مر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ جن لوگوں نے مذکورہ قسم کا سیاسی نظریہ پیش کیا انہیں اور ان کے پیروؤں کو یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ ہم نے اسلام کی جو سیاسی تشریح کی وہ غلط تھی۔ پھر میں نے کہا کہ یہ مسلمان آج کل ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے عقیدہ کے تقاضے کے تحت گولی اور بم کا کلچر چلاتے ہیں۔ اور جب فریق ثانی زیادہ بڑی طاقت کے ساتھ ان کو اپنی جوابی کارروائی کا نشانہ بناتا ہے تو وہ ہیومن رائٹس کا حوالہ دے کر احتجاج کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ اگر ان کا نظریہ درست ہے تو جو کچھ ان کے ساتھ پیش آرہا ہے وہ ان کے اپنے نظریہ کی قیمت ہے۔ پھر انہیں اس قیمت کو خوشی کے ساتھ قبول کرنا چاہیے نہ کہ وہ اس کے خلاف احتجاج کرنے لگیں۔ ٦ ستمبر کی شام کو کلامندر کے ہال میں پروگرام تھا۔ یہاں کافی لوگ آئے۔ یہاں تقریر کا موضوع یہ تھا: اسلام کا پیغام انسانیت کے نام۔ یہ جلسہ مولانا مفتی سید تمیز الدین صاحب قاسمی کی صدارت میں ہوا۔ اس کے علاوہ اسٹیج پر نان ڈیر کے حسب ذیل افراد بیٹھے ہوئے تھے : ڈاکٹر ہنس راج ویدیہ صاحب، پروفیسر مورے، مسز کنشن پنیل۔ میں نے اپنی تقریر میں قرآن وحدیث کے حوالے سے بتایا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، تمام انسان ایک خدا کی عیال ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دشمن کو بھی حسن سلوک سے اپنا دوست بناؤ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سماج میں تم نفع بخش بن کر رہو یا کم از کم یہ کرو کہ تم دوسروں کے لیے بے ضرر بن جاؤ۔
٧ ستمبر کی شام کو مہاتما پھلے ہال میں پروگرام تھا۔ یہ پروگرام ساڑھے سات بجے ختم ہوا۔ اس کے بعد میں واپس اپنی رہائش گاہ پر آ گیا۔ میں اوپر کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ نیچے سے پیغام آیا کہ ایک اسٹوڈنٹ ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ابھی تو میں مصروف ہوں، میں فوراً نہیں مل سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues