Al-Risala · March 2005 · page 35

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۵

کچھ دیر سے بعد معلوم ہوا کہ وہ نوجوان خواتین کے اصرار کرنے لگا کہ مجھے مولانا سے ملنا ہے۔ میرا اپائنٹمنٹ طے ہو چکا ہے۔ خواتین کو شک ہوا اور انہوں نے اس کو لوٹنا چاہا مگر وہ لوٹنے کے لیے تیار نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں ایک منٹ کے لیے اوپر جاؤں گا۔ اتنے میں مسٹر عبدالرحمن آگئے۔ ان کو دیکھ کر وہ اسٹوڈنٹ کچھ نرم پڑا۔ عبدالرحمن صاحب نے پوچھا کہ تم ایک منٹ کے لیے کیوں ملنا چاہتے ہو۔ وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ چنانچہ عبدالرحمن صاحب نے اس کو لوٹا دیا۔ ناندیڑ میں ایک ہندو پروفیسر نے اپنی ایک کتاب بطور تحفہ دی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا: Islam: Maker of the Muslim Mind by Prof. Sheshrao More اس کتاب میں عمومی طور پر اسلام کی صحیح تصویر پیش کی گئی ہے۔ مگر اس میں بعض خطرناک غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ اگر چہ یہ غلطیاں وہی ہیں جو خود مسلم مصنفین کے یہاں موجود ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مسلمان آج کل مختلف مقامات پر اپنے مادی حقوق کے لیے جو متشددانہ لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ اسلام ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم ناانصافی کو برداشت نہ کرو:

Since Islam teaches its votaries not to tolerate injustice and persecution, the religion was naturally perceived as the inspiration for the community's hostile attitude. (p. 1)

مگر یہ بات صحیح نہیں۔ حدیث میں مومن کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: مفتاح للخير مغلاق للشر (خیر کا دروازہ کھولنے والا اور شر کا دروازہ بند کرنے والا)۔ اس قسم کی تعلیم جو اسلام میں دی گئی ہے وہ انسانیت عامہ کے تعلق سے ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کے تعلق سے۔ یہ صحیح ہے کہ انسانیت عامہ کے معاملہ میں مومن کو حساس ہونا چاہیے۔ مگر جہاں تک ذاتی نقصان کا تعلق ہے، اس میں اہل ایمان کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔

آج کل مسلمان مختلف مقامات پر جو متشددانہ جہاد کر رہے ہیں وہ انسانیت عامہ کے مفاد کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ خود اپنے مادی حقوق کے لیے ہے۔ اور اسلام میں جس جہاد کی تعلیم دی گئی ہے وہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page