Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۶
جہاد فی سبیل اللہ ہے، وہ ملک و مال کی ذاتی لڑائی کے لیے نہیں۔ موجودہ قسم کی لڑائی قومی لڑائی ہے، وہ ہرگز اسلامی جہاد نہیں۔
ناندیڑ میں ایک مسلم تنظیم قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے: شاہ ولیفیر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی۔ اس سوسائٹی کے تحت شاہہائی اسکول اور جونیئر کالج قائم ہے۔ دونوں کامیابی کے ساتھ اعلیٰ معیار پر چلائے جا رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے ساتھ انگریزی وغیرہ علوم کو شامل کیا ہے۔ یہاں کے پڑھے ہوئے طلباء، ہر سال اچھے نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں۔ ۲۰۰۲ میں پرائمری بورڈ کے امتحان میں جماعت چہارم کی طالبہ فاطمہ محمد یوسف نے ضلع میں پہلا مقام حاصل کیا۔ اس ادارہ کی پرنسپل معراج النساء صاحبہ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس ادارہ کی ترقی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۲ کو اس ادارہ نے میرے خطاب کا پروگرام رکھا تھا۔ ایک بڑے ہال میں تمام طلباء اور اساتذہ اکھٹا ہوئے۔ یہاں میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جدید علوم اسلام کے دشمن نہیں ہیں بلکہ وہ اسلام کے معاون ہیں۔ قدیم علوم اور جدید علوم میں یہ فرق ہے کہ قدیم علوم قیاسات اور مفروضات پر مبنی تھے۔ اس لیے یہ ممکن تھا کہ ان میں اسلام دشمن باتیں شامل ہو جائیں۔ مگر جدید علوم کا معاملہ اُن سے مختلف ہے۔ جدید علوم، دوسرے لفظوں میں، علوم فطرت ہیں۔ یعنی خدا کی تخلیقات میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرنا اور اُن کی بنیاد پر علوم کی تشکیل و تدوین کرنا۔ ایسی حالت میں اس کا کوئی امکان ہی نہیں کہ جدید علوم اسلام دشمن علوم بن جائیں۔ اسلام اور ان علوم کے درمیان وہی نسبت ہے جو خالق اور تخلیق کے درمیان ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق اور تخلیق کے درمیان تضاد ممکن نہیں۔ اسی طرح اسلام اور جدید سائنسی علوم کے درمیان تضاد نہیں ہوسکتا۔ آج کل مدارس میں عصری علوم کے نام سے شعبے کھولے جا رہے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں لوگوں کے درمیان ایک غلط فہمی ہے۔ وہ کمپیوٹر جیسی کچھ چیزوں کے لیے کلاس کھولتے ہیں اور اس کو عصری علوم سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ عصری میتھڈ ہے، نہ کہ عصری علم۔ عصری طریقوں کو مدارس میں ضرور شامل کیا جانا چاہیے ۔ لیکن کچھ عصری طریقوں کو مدارس میں رائج کرکے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عصری
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues