Al-Risala · March 2005 · page 37

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۷

علوم کو مدارس کے تعلیمی نظام میں شامل کر لیا گیا۔

تقریر کے بعد لوگوں کی طرف سے سوالات آنے لگے۔ یہاں تک کہ سوالات کی بھر مار ہو گئی۔ تقریباًسو کے قریب لکھے ہوئے سوالات آئے۔ ناظم جلسہ نے منتخب سوالات پڑھ کر سنائے اور میں نے ان کا جواب دیا۔ عجیب بات ہے کہ ان میں سے شاید کوئی سوال بھی منفی انداز کا نہ تھا۔ تقریباً تمام سوالات مثبت انداز کے تھے۔ ان میں سے کچھ سوال اور ان کے جواب یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ سوال: مدنی دور اور مکی دور کا نمایاں فرق کیا ہے۔

جواب: اصل یہ ہے کہ قرآن کا نزول حالات کے اعتبار سے ہوا۔ مکی حالات کے لحاظ سے مکی سورتیں نازل ہوئیں اور مدنی حالات کے لحاظ سے مدنی سورتیں نازل ہوئیں۔ اگر آپ دونوں قسم کی سورتوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ دونوں دوروں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے دعوت اور تعمیر ذہن کی پر امن جدوجہد۔ مدنی دور میں بنیادی طور پر دو چیزوں کا اضافہ ہوا۔ ایک ہے مسلم معاشرہ کی باقاعدہ تنظیم، اور دوسری چیز ہے جارحانہ حملوں کے مقابلہ میں دفاعی کوشش۔ یہ دفاعی کوشش زیادہ تر اعراض کی صورت میں ہوئی۔ البتہ چند بار مسلح ٹکراؤ کی صورت بھی پیش آگئی۔

سوال: مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کے اسباب اور حل پر مختصر روشنی ڈالیے۔ جواب: میرے نزدیک اس پس ماندگی کی تمام تر ذمہ داری مسلم رہنماؤں کے اوپر ہے۔ یہ لوگ موجودہ حالات کے مقابلہ میں منفی ردعمل کا شکار ہو گئے۔ وہ مسلمانوں کے اندر مسلسل طور پر شکایت اور احتجاج کا مزاج پیدا کرتے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسائل کے خلاف الجھایا مگر انہوں نے مسلمانوں کو مواقع (opportunities) کی نشاندہی نہ کی۔ حتی کہ انہوں نے جدید تعلیم کو مغربی قوموں کی سازش کا نام دے دیا۔ اسی منفی ذہن سازی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان تعلیم کے میدان میں پوری توجہ کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکے۔

سوال: حدیث کا مفہوم ہے کہ ظالم اور مظلوم کی مدد کی جائے۔ صحابہ نے پوچھا، مظلوم کی مدد تو سمجھ میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page