Al-Risala · March 2005 · page 38

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۸

آتی ہے۔ ظالم کی مدد کے کیا معنی۔ حضور نے کہا، اس کو ظلم سے روکو۔ وضاحت کیجئے۔ جواب: ’’ظلم سے روکو‘‘ کا مطلب ہے کہ اس کو ظلم سے رکنے کی نصیحت کرو۔ اس کے لیے تنہائیوں میں دعا کرو۔ اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کر کے اس کے دل کو بدلنے کی کوشش کرو۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ ظالم کے خلاف احتجاج کی مہم چلاؤ۔ اس کے خلاف تشدد کی کارروائی کرو۔ سوال: اسلام میں ردعمل یا بدلہ کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں۔

جواب: اگر کوئی شخص آپ کے خلاف برائی کرے تو آپ منھ سے بول کر الفاظ کی صورت میں اس کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں مگر انتقام یا عملی کارروائی کا حق کسی فرد کو نہیں۔ اس کا حق صرف عدالت کو ہے۔ باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی کسی شخص کے اوپر عملی سزا کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔

سوال: آپ کے نظریہ کے مطابق، ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار صرف مسلمان ہیں، برائے کرم اس پر تبصرہ کیجئے۔

جواب: میرا یہ نظریہ نہیں کہ ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار ہیں۔ میرا نظریہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں نے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف صرف بطور خود احتجاج کا طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ قرآن میں اس مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ میں نے بار بار اپنی تحریروں میں بتایا ہے کہ قرآن میں اس مسئلہ کا واضح حل موجود ہے۔ اور وہ حل صبر اور تقویٰ ہے (آل عمران ۱۲۰)

سوال: مسلمانوں کو موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ کیا مسلمانوں کو خود کی اصلاح کرنا ضروری ہے، اگر ہے تو کیا۔

جواب: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف اپنے عمل کے بقدر نتیجہ ملتا ہے۔ انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی۔ اس پرانے اصول کے مطابق، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے جو کچھ کھویا ہے وہ خود اپنے بے عملی کی بنا پر کھویا ہے۔ اب وہ صرف اپنی عملی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page