Al-Risala · March 2005 · page 39

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳۹

جدوجہد کے ذریعہ ہی اپنے لیے کوئی نیا مستقبل بنا سکتے ہیں۔

سوال: کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ دنیا میں خلافت طرزِ حکومت ہونی چاہیے، یعنی دنیا کے مسلمانوں کا ایک امیر ہو۔ اس کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔

جواب: امارت کا تعلق سیاسی حکومت سے نہیں ہے بلکہ اطاعت کی رضا کارانہ اسپرٹ سے ہے۔ مسلمان اگر امیر کی اطاعت کو اپنے اوپر فرض سمجھے تو حکومت کے بغیر ہی ان کے درمیان امارت کا نظام قائم ہو جائے گا اور اگر اطاعت کی اسپرٹ نہ ہو تو حکومت کی موجودگی میں بھی انارکی کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ جیسا کہ حضرت علی کے زمانہ خلافت میں پیش آیا۔ سوال: آپ کی انگریزی بہت اچھی ہے۔ اسے سیکھنے کا آسان طریقہ کیا ہے۔ جواب: انگریزی زبان یا کسی بھی علم کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ محنت ہے۔ اس حقیقت کو ایک عربی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے_ من جد وجد _ سوال: معلم (ٹیچر) میں کیا اوصاف ہونے چاہئیں۔

جواب: میرے نزدیک معلم کے اندر سب سے بڑی صفت جو ہونی چاہیے وہ یہ کہ وہ طالب علموں کا خیر خواہ ہو۔ اگر معلم کے اندر اپنے طالب علموں کے لیے سچی خیر خواہی ہو تو اپنے آپ وہ ایک کامیاب معلم بن جائے گا۔

سوال: انگریزوں کے خلاف علماء نے جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔ اگر وہ غلط تھا تو اس میں جان دینے والوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔

جواب: آخرت میں کس کا انجام کیا ہوگا، یہ مکمل طور پر خدا کا معاملہ ہے۔ اس کے بارے میں کوئی انسان کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ البتہ جہاں تک جہاد کے فتویٰ کا تعلق ہے، خواہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ ہو یا موجودہ زمانہ میں مفروضہ دشمنوں کے خلاف فتویٰ، یہ سب کے سب شرعی اعتبار سے غلط فتوے ہیں۔ اس معاملہ میں زیادہ سے زیادہ جو چیز ممکن ہے وہ یہ کہ بشرط اخلاص ان فتووں کو اجتہادی خطا کا درجہ دے دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page