Malaysia's Anwar is a free man after six years.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴۰
سوال: قرآن اور حدیث کو سمجھنے اور سمجھانے کا طریقہ کیا ہے۔
جواب: اس کا طریقہ صرف یا ہے کہ ضروری علوم حاصل کرنے کے بعد قرآن اور حدیث کے متن پر غور کیا جائے اور مسلسل دعا کی جاتی رہے کہ خدا علم صحیح کی توفیق دے اور ذہنی گمراہی سے بچائے۔ سوال: آپ کی نظر میں اردو کی سب سے بہترین تفسیر کون سی ہے۔
جواب: کوئی تفسیر سب سے بہتر تفسیر نہیں ہوتی۔ ہر تفسیر کسی اعتبار سے مفید ہوتی ہے۔ اسی ذہن کے ساتھ تفسیروں کو پڑھنا چاہیے۔
سوال: دینی اور دنیاوی علم کے اعتبار سے آپ ایک بہت بڑے اسکالر ہیں۔ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ کیا کوئی ایسی دعا ہے جس کے پڑھنے کے بعد چیزیں جلدی یاد ہوں اور پھر وہ نہ بھولیں ۔ جواب: دعا کچھ رٹے ہوئے الفاظ کا نام نہیں ہے۔ دعا دل کی تڑپ کا نام ہے۔ دل کی تڑپ کے ساتھ دعا ضرور پوری ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا: مانگو تو پاؤ گے۔ سوال: سیکولر نظام تعلیم میں جو بھگوا کرن کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں اس میں آپ کی کیا رائے ہے۔ جواب: میرے نزدیک بھگوا کرن کا خطرہ ایک مفروضہ خطرہ ہے، اس سے مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچنے والا نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اصل خطرہ مغربی کرن ہے۔ مغربی کرن یا ویسٹرنائزیشن نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کو بلکہ ساری مسلم دنیا کے مسلمانوں کو اپنی زد میں لے چکا ہے۔ وہ ان ملکوں میں بھی داخل ہو چکا ہے جن کو خوش فہم رہنما اسلام کا قلعہ بتاتے تھے۔ یہ یہ کہتے تھے کہ وہ اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔
۷ ستمبر کو ۱۱ بجے مدینۃ العلوم کالج میں خطاب کا پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع تھا'' عصری تعلیم کی اہمیت‘‘ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ عصری تعلیم کی اہمیت صرف جاب کے لیے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علوم اسلام کے حق میں تائیدی علوم ہیں۔ ان کو اسلام کا جدید علم کلام کہا جا سکتا ہے۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ کس طرح جدید علوم اسلام کی تعلیمات کو خالص سائنسی بنیادوں پر مدلل کر رہے ہیں۔ ۷ ستمبر کی دوپہر کو عبدالقیوم صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ دو کام ایک دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues