Al-Risala · March 2005 · page 41

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴۱

سے بالکل الگ ہیں ۔ دعوۃ ورک اور کمیونٹی ورک ۔ کمیونٹی ورک ہر قوم میں اور ہر جگہ ہو رہا ہے ۔ جہاں تک دعوۃ ورک کا تعلق ہے وہ اس وقت کہیں بھی صحیح طور پر انجام نہیں پا رہا ہے ۔ پھر میں نے کہا کہ کمیونٹی ورک اور دعوۃ ورک میں یہ فرق ہے کہ کمیونٹی ورک کا مقصد ہوتا ہے ، اپنی کمیونٹی کو بچانا ، اور دعوۃ ورک کا مقصد ہوتا ہے ، انسانیت کو بچانا ۔

ایک پروگرام میں ایک صاحب نے ایک کاغذ پر یہ لکھ کر بھیجا :

اکثر مساجد کے امام وعلماء ہی نفرت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اللہ کے معصوم بندے جذبات میں آ کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ ان امام وعلماء کے نام ایک ایک کتاب لکھئے ( نعیم خاں ، بمعرفت حاجی واجد علی خاں ، ایچ ۔ پیر برہان نگر ، ناندیڑ (9422189882 میں نے کہا کہ یہ صرف علماء اور ائمہ کی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یہی تمام لوگوں کا حال ہے ۔ حتیٰ کہ جو لوگ ’’ نفرت مٹاؤ ، دیش بچاؤ ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں وہ بھی عملاً یہی کر رہے ہیں ۔ ان کے اخباروں اور رسالوں میں مستقل طور پر دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی باتیں چھپتی رہتی ہیں ۔ وہ یہ تصور دیتے ہیں کہ دنیا ہمارے حق میں ظالم ہو گئی ہے ۔ اس قسم کی باتیں گویا نفرت کا جنگل اگانے کے ہم معنی ہیں ۔ اور جب نفرت کا یہ جنگل آگ آتا ہے تو اس کے بعد وہ نفرت ختم کرو کی مہم چلاتے ہیں ، صرف اس لیے تاکہ وہ نفرت کی کھیتی اگانے کے جرم سے اپنے آپ کو بری الذمہ کر سکیں ۔

انڈین یونین مسلم لیگ کی ناندیڑ شاخ کے کنوینر کی طرف سے ان کے لیٹر ہیڈ پر دو صفحہ کی تحریر مجھے دی گئی ۔ اس تحریر کا ایک حصہ کسی تبدیلی کے بغیر بعینہ یہاں نقل کیا جاتا ہے : محترم المقام مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ بعد از سلام آپ کی خدمت میں بذریعہ تحریر اپنے خیالات کا اظہار کرنے جا رہا ہوں ، امید کہ آپ غور کریں گے ۔ میں گذشتہ کئی برسوں سے آپ کا تحریر کردہ ’’ الرسالہ ‘‘ کا قاری ہوں ۔ آپ کی تحریر کے ایک ایک لفظ میں طلسم ہے ۔ آپ کا دانشورانہ انداز بیان لا جواب ہے ۔ لیکن آپ کی تحریر میں منفی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page