Al-Risala · March 2005 · page 43

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴۳

تھا: اچھا مسلمان بننے کے لیے کسی شخص کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اچھا مسلمان بننے کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ آدمی اچھا انسان بنے۔ اچھا انسان گویا وہ زرخیز زمین ہے جس پر اچھے مسلمان کا درخت اگتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: خیارکم فی الجاهلية خياركم فی الاسلام۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی فطری صفات کے اعتبار سے اچھا انسان ہوتا ہے وہی دین اسلام کے اعتبار سے اچھا مسلمان بنتا ہے۔ جس آدمی کے اندر انسانی اوصاف نہ ہوں اس کے اندر اسلامی اوصاف بھی پیدا نہیں ہوتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اخلاقیات کی زمین پر اسلامیات کا باغ اگتا ہے۔

ایک مسلم اسکول کے پرنسپل سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں تعلیمی ادارہ قائم کرنا گویا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا: خیر گر چاہتا ہے خیر کے اسباب بنا پل بنا چاہ بنا مسجد و تالاب بنا صدقہ جاریہ کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر ایک کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں تعلیمی ادارہ قائم کرنا صدقہ جاریہ کا ایک اہم شعبہ ہے۔ بلکہ شاید وہ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ اہم شعبہ ہے۔ کیوں کہ تعلیم کے ذریعہ آدمی سوچنے سمجھنے کے قابل بنتا ہے، اور بلاشبہ اس دنیا میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی سوچنے کے قابل ہو جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تعمیر شعور کہا جاتا ہے۔ ۸ ستمبر کو پربھنی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا انتظام یہاں کی مسجد میں کیا گیا تھا۔ مولانا جہانگیر صاحب نے اس کو کنڈکٹ کیا۔ مولانا جہانگیر صاحب ایک سنجیدہ عالم ہیں۔ انہوں نے پروگرام کو نہایت خوبی کے ساتھ چلایا۔ میرے اس خطاب کا موضوع تھا: اسلام کا پیغام انسانیت کے نام۔ اس موضوع پر میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مفصل تقریر کی۔

اس جلسہ میں کچھ مقامی ہندو بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر موہن مولگے (Dr. Mohan Mawlage) تھے۔ وہ پربھنی کے مشہور ڈاکٹر اور سرجن ہیں۔ وہ تقریر سے کافی متاثر ہوئے اور اس کے بعد وہ اصرار کر کے مجھے اپنے اسپتال لے گئے۔ یہاں ہمارے تمام ساتھی بھی موجود

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page