Al-Risala · March 2005 · page 44

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴۴

تھے انہوں نے کہا کہ آپ کی باتیں ہمیں بہت پسند آئیں۔ اب ہم زیادہ بڑے پیمانہ پر پربھنی میں آپ کا پروگرام کرنا چاہتے ہیں۔

۸ ستمبر کو بڑھنی کی ایک مجلس میں میرے سامنے عبد اللہ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ وہ موبائل پر کسی سے بات کرنے لگے۔ جب ان کی بات ختم ہوئی تو میں نے ان کا موبائل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ موبائل آپ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ یہ موبائل ایک علامت ہے جو بتاتا ہے کہ آپ مسلم بادشاہوں اور مسلم نوابوں سے بھی زیادہ اچھی حالت میں ہیں۔ کیوں کہ ماضی کے وہ لوگ جن کو مسلم بادشاہ اور مسلم نواب کہا جاتا ہے ان میں سے کسی کے پاس بھی موبائل ٹیلی فون نہ تھا۔ اسی طرح بہت سی چیزیں ہیں جو آج عام مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ جب کہ پچھلے زمانہ میں وہ حکمرانوں کو بھی حاصل نہیں تھیں ۔ ایسی حالت میں آپ کو چاہیے کہ آپ ہر وقت خدا کا شکر ادا کریں۔ آپ کی زبان سے کبھی ناشکری کا کلمہ نہ نکلے۔ پھر میں نے کہا کہ کم از کم اپنے تجربہ میں میں نے دیکھا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہر مسلمان شکایتی بولی بولتا ہے، کوئی بھی مسلمان حقیقی معنوں میں شکر ادا کرنے والا نہیں۔ ۸ ستمبر کی دوپہر کا کھانا بڑھنی میں محمد مشتاق احمد، ڈپٹی انجینئر کے گھر پر کھایا۔ یہاں کھانے پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ یہاں میں نے کئی موضوع پر سوالات کی وضاحت کی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ مگر صبر کب تک۔ بابری مسجد توڑی گئی اس پر ہم نے صبر کیا، مسجد میں بم پھٹا اس پر ہم نے صبر کیا۔ پھر صبر کا یہ سلسلہ کب تک رہے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ صبر کرتے تو آپ مجھ سے یہ سوال ہی نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ”بس جواب مل گیا۔ “ محمد مشتاق احمد صاحب نے جلد ہی ایک نرسری اسکول کھولا ہے۔ فی الحال وہ اپنے وسیع گھر کے ایک حصہ میں اس کو چلا رہے ہیں۔ ایک خاتون اس کی پرنسپل ہیں۔ میں نے اس کو دیکھا۔ میں نے کہا کہ اچھی تعلیم کے لیے اچھی اسکولنگ بہت ضروری ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اچھی اسکولنگ کا تصور مسلمانوں میں بہت دیر میں آیا ہے۔ جب کہ دوسروں میں وہ بہت پہلے آچکا تھا۔ اچھی اسکولنگ نہ ہونا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page