Al-Risala · March 2005 · page 45

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵

ہی مسلمانوں کی تعلیمی پچھڑے پن کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اب اس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس علاقہ کے اخبارات میں برابر میرے خطابات اور پروگراموں کی رپورٹنگ آتی رہی۔ یہاں ان کی تفصیل دینا ممکن نہیں۔ اورنگ آباد سے چھپنے والا مراہٹی اخبار دیک لوک مت کے شمارہ ۷ ستمبر ۲۰۰۴ میں میری ایک تقریر کی رپورٹ شائع ہوئی۔ اخبار نے اس کا جو عنوان قائم کیا اس کا ترجمہ یہ ہے:

اسلام میں غیر حکومتی گروپ کو ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں میں نے مراہٹی جاننے والے ایک صاحب سے اس رپورٹ کو پڑھوا کر سمجھا۔ یہ تقریباً صحیح رپورٹ تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا تھا وہی اخبار والے نے شائع کیا تھا۔ جب کہ اردو اخبارات کے بارے میں میرا تجربہ اس سے مختلف ہے۔ اردو اخبار والوں کا حال یہ ہے کہ میں کچھ کہتا ہوں اور اردو اخبارات اس کو کسی اور ڈھنگ سے چھاپتے ہیں۔ اس فرق کا راز کیا ہے۔ غالباً اس فرق کا راز یہ ہے کہ پروفیشنل جُرنلزم (professional journalism) کا تصور ابھی تک اردو اخبارات میں نہیں آیا۔

پربھنی میں ۹ ستمبر کو ایک بڑا جلسہ رکھا گیا تھا۔ مگر مجھے بعض اسباب سے ۸ ستمبر کو واپس آنا پڑا۔ چنانچہ پربھنی کا پبلک جلسہ نہ کیا جا سکا۔ البتہ یہ طے ہوا کہ ناندیڑ سے اورنگ آباد جاتے ہوئے درمیان میں کچھ دیر کے لیے میں پربھنی میں رکوں اور وہاں ایک پروگرام کیا جائے۔ اسی فیصلہ کے تحت پربھنی کی مسجد میں خطاب کا ایک پروگرام رکھا گیا۔ پربھنی سے فارغ ہو کر اورنگ آباد کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ تقریباً ۴ گھنٹہ کا سفر تھا۔ سڑک نسبتاً اچھی تھی اور سڑک کے دونوں طرف مسلسل سرسبز مناظر تھے۔ اس طرح کے ماحول میں سفر کرتے ہوئے ساڑھے چار بجے شام کو اورنگ آبادائر پورٹ پر پہنچے۔ یہاں سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ فلائٹ اورنگ آباد سے ساڑھے پانچ بجے شام کوروانہ ہوتی ہے اور بمبئی ہوتے ہوئے نئی دہلی آتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page